خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 455 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 455

خطبات مسرور جلد 15 455 جمعه فرمودہ مورخہ 22 ستمبر 2017 کئی جماعتیں جلسے بھی منعقد کرتی ہیں، اجتماع بھی منعقد ہوتے ہیں، ان میں ایسے پروگرام ہوتے ہیں جو تربیت کے لئے بھی ہوتے ہیں۔علم بڑھانے کے لئے بھی ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی یاد اور ذکر کے لئے بھی ہوتے ہیں۔آج یہاں مثلاً لجنہ اماءاللہ کا اجتماع شروع ہو رہا ہے۔لجنہ کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے پروگراموں کا زیادہ حصہ دینی اور علمی مجالس ہونا چاہئے۔اور شامل ہونے والی عور تیں بھی یاد رکھیں کہ وہ کسی میلے میں شامل ہونے کے لئے نہیں آئیں۔اپنے اجتماع پر آنے کا مقصد ان کو پورا کرنا چاہئے اور مستقل دینی اور علمی مجلسیں لگائیں۔با قاعدہ پروگرام نہیں بھی ہو رہا تب بھی اپنی مجالس میں بجائے ادھر اُدھر کی باتیں کرنے اور فضول گفتگو کرنے کے تعمیری گفتگو کریں اور لغو باتوں سے ہمیشہ پر ہیز کریں اور اپنا وقت اس سے ضائع ہونے سے بچائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں اور وہاں ذکر الہی نہیں کرتے وہ اپنی مجلس کو قیامت کے دن حسرت سے دیکھیں گے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحہ 724 حدیث 7093 مسند عبد الله بن عمرو بن العاص مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) پس اجتماع پر آنے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اپنے آنے کے مقصد کو پورا کریں اور اپنا وقت ہنسی ٹھٹھے اور فضول گفتگو میں گزارنے کے بجائے زیادہ وقت ذکر الہی اور نیکی کی باتیں کرنے اور سننے میں گزاریں تاکہ ہماری مجلسیں قیامت کے دن کبھی حسرت سے دیکھی جانے والی مجلسیں نہ ہوں۔تقویٰ پر چلنے اور تقویٰ پر چلنے والوں کی صحبت میں وقت گزارنے کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کیا نصیحت فرمائی؟ ایک روایت میں آتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مومن کے سوا کسی اور کے ساتھ نہ بیٹھو اور متقی کے سوا کوئی اور تمہارا کھانا نہ کھائے۔(سنن ابی داود کتاب الأدب باب من يؤمر ان يجالس حديث 4832) انسان کا دنیا میں مختلف لوگوں سے رابطہ واسطہ رہتا ہے۔انسان انہیں ملتا بھی ہے۔غیر مسلموں کے ساتھ بھی اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ انسان غیر مومن کے ساتھ اٹھے بیٹھے ہی نہ۔آپ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری گہری دوستی، تمہارا زیادہ اٹھنا بیٹھنا، تمہارا اکثر وقت گزارنا، تمہاری مجالس زیادہ تر ایسے لوگوں کے ساتھ ہوں جو ایمان میں مضبوط ہوں اور تقویٰ پر چلنے والے ہوں تاکہ تم بھی نیکی اور تقویٰ میں آگے بڑھو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " اصلاح نفس کی ایک راہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ كُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ (التوبة:119)۔یعنی جو لوگ قولی فعلی۔عملی اور حالی رنگ میں سچائی پر قائم ہیں ان کے ساتھ رہو۔" یعنی ان کی باتیں بھی سچائی پر مبنی ہوں۔ان کے عمل بھی سچائی پر مبنی ہوں اور ان کی ہر حالت سے سچائی ظاہر ہوتی ہو۔یعنی نیک لوگ ہوں۔فرمایا کہ " اس سے پہلے فرمایا۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ - یعنی