خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 454 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 454

خطبات مسرور جلد 15 454 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 ستمبر 2017 پس یہ ہے وہ رہنما اصول جو ایک مومن کو اپنی مجلس کے انتخاب کے وقت سامنے رکھنا چاہئے کہ ان مجالس کو پسند کرو جہاں خدا تعالیٰ کا ذکر ہو رہا ہو۔اللہ تعالیٰ کے دین کی عظمت کی باتیں ہو رہی ہوں۔جہاں دینی علم میں بھی اضافہ ہو رہا ہو۔اور آجکل دینی علم میں اضافہ ہر احمدی کے لئے ضروری ہے۔تبلیغ کے لئے ، دعوت الی اللہ کے لئے ، تربیت کے لئے یہ باتیں ضروری ہیں اور یہی باتیں آخرت کی بھی یاد دلاتی ہیں۔انسان کو اس طرف متوجہ رکھتی ہیں کہ صرف دنیا کی چمک دمک ہی سب کچھ نہیں ہے۔اس دنیا کی دولتیں اور آسائشیں ہی سب کچھ نہیں ہیں۔بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا ایک مومن کا اصل مقصود ہونا چاہئے۔پہلی حدیث کی وضاحت ہو گئی کہ اگر صرف دنیا داروں کی مجالس ہیں تو یہ مجلسیں ایک مومن کو پسند نہیں ہونی چاہئیں۔ایسی مجلس سے فوراً اٹھ کر آ جانا چاہئے۔اگر اس طرف ہماری توجہ ہو تو ہمارے بڑے بھی اور ہمارے نوجوان بھی بہت سی برائیوں سے بچ جائیں۔بہت سے فتنوں سے بچ جائیں۔نوجوانوں کی بہت سی مجالس کی ایک دوسری طر ز بھی ہے، قسم بھی ہے۔نوجوان خاص طور پر اس ، میں involve ہوتے ہیں جو fun کے نام پر ہوتی ہیں۔غل غپاڑے کے لئے ہوتی ہیں۔اور مغربی ماحول کے اثر کی وجہ سے ہمارے بعض نوجوانوں میں بھی یہ باتیں پیدا ہو گئی ہیں کہ ایسی مجلسوں میں شامل ہو جانا چاہئے۔ایک مومن نوجوان کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اپنی زندگیوں کو اس قسم کی مجلسوں سے بچا کے رکھیں اور کچھ حدود ہیں ان کے اندر رہیں۔جماعت میں بھی بعض دفعہ ایسے واقعات ہو جاتے ہیں کہ بری صحبتوں اور خراب مجلس کے زیر اثر ہمارے نوجوان نوجوانی میں قدم رکھتے ہی بعض ایسی حرکتیں کر جاتے ہیں جو دوسروں کو نقصان پہنچانے والی ہوتی ہیں۔ہمسایوں کو نقصان پہنچا دیا۔یا راہ چلتے را بگیر کو نقصان پہنچا دیا۔یا کسی جگہ گئے تو ویسے ہی شرارہ کسی کو نقصان پہنچا دیا۔اور پھر اگر یہ پتا لگ جائے کہ یہ جماعت کا فرد ہے تو پھر ایسے لوگ جماعت کی بھی بدنامی کا باعث بن جاتے ہیں۔پس ماں باپ کو بھی اپنے بچوں کی مجالس اور صحبتوں پر نظر رکھنی چاہئے تا کہ ہمارے نوجوان، نوجوانی میں قدم رکھنے والے بچے بھی بری صحبتوں اور مجلسوں سے محفوظ رہیں۔اور خود بھی گھروں میں ایسی پاک مجلسیں لگانی چاہئیں جو ہمیشہ تربیتی نقطہ نظر سے بہترین ہوں۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ جب کوئی قوم مسجد میں کتاب اللہ کی تلاوت اور آپس میں درس و تدریس کے لئے بیٹھی ہو تو اللہ تعالیٰ ان پر سکینت نازل فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت انہیں ڈھانک لیتی ہے اور فرشتے انہیں اپنے جلو میں لے لیتے ہیں۔(صحيح مسلم كتاب الذكر والدعاء۔۔۔الخ باب فضل الاجتماع على التلاوة القرآن و على الذکر حدیث 6853) اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے کہ جماعت کو ایسے مواقع میسر آجاتے ہیں اور آتے رہتے ہیں۔دنیا میں ہر جگہ ہی