خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 456
خطبات مسرور جلد 15 456 جمعه فرمودہ مورخہ 22 ستمبر 2017 ایمان والو تقوی اللہ اختیار کرو۔اس سے یہ مراد ہے کہ پہلے ایمان ہو پھر سنت کے طور پر بدی کی جگہ کو چھوڑ دے اور صادقوں کی صحبت میں رہے۔صحبت کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے جو اندر ہی اندر ہو تا چلا جاتا ہے۔" فرمایا کہ "اگر کوئی شخص ہر روز کنجریوں کے ہاں جاتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ کیا میں زنا کر تا ہوں ؟" میں زنا کرنے تو نہیں جاتا تو اس سے کہنا چاہئے کہ ہاں تو کرے گا اور وہ ایک نہ ایک دن اس میں مبتلا ہو جاوے گا" کیونکہ بد صحبت کا بد اثر ہوتا ہے "کیونکہ صحبت میں تاثیر ہوتی ہے۔اسی طرح پر جو شخص شراب خانہ میں جاتا ہے خواہ وہ کتنا ہی پر ہیز کرے اور کہے کہ میں نہیں پیتا ہوں لیکن ایک دن آئے گا کہ وہ ضرور پیئے گا۔" ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 247) پس ہمیشہ بری صحبت سے بچنے کی ضرورت ہے۔عام دنیاوی کاروباروں میں تعلق واسطہ تو ہو تا ہے جیسا کہ میں نے کہا غیروں کے ساتھ تعلق ہے۔لیکن ان تعلقات میں حدود قائم ہونی چاہئیں۔یہ نہیں کہ ان کی فضول مجلسوں میں بھی انسان جانا شروع کر دے۔بہت سی برائیاں ان فضول مجلسوں میں شامل ہونے سے ہوتی ہیں۔بلکہ یہاں کے لوگ خود اس بات کا اظہار کرتے ہیں۔ہماری بعض عورتوں سے اس بات کا انگریز عورتوں نے اظہار کیا کہ ہمارے خاوند اچھے بھلے شریف تھے لیکن بعض دوستوں کی وجہ سے ان میں برائیاں پیدا ہو گئیں اور فضول اور گندی مجلسوں میں جانا شروع ہو گئے۔تو ان لوگوں کو بھی جو غیر مسلم ہیں ان کو بھی یہ احساس پیدا ہو رہا ہے۔اس لئے ہمیں تو بہت زیادہ اس بات کی فکر کرنی چاہئے۔اس چیز کو روکنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا ہے دین لوگوں کے ساتھ زیادہ اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا تمہیں دین اور تقویٰ سے دُور کر دے گا۔ہاں تبلیغ کے لئے، نیک باتوں کو پہنچانے کے لئے تعلق ضرور قائم کرنا چاہئے۔اس کے بغیر تبلیغ نہیں ہو سکتی۔لیکن اس کے لئے انہیں اپنی مجالس میں لانا چاہئے کیونکہ یہ نیکی کی مجالس پھر اپنا اثر چھوڑتی ہیں۔اور ہمارے جلسوں میں، فنکشنز میں شامل ہونے والے بے شمار غیر لوگ ہیں جو اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ یہاں آکر ہماری حالت اور کیفیت بالکل بدل جاتی ہے۔صحبت کے اثر کی وضاحت فرماتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا کہ "جب انسان ایک راستباز اور صادق کے پاس بیٹھتا ہے تو صدق اس میں کام کرتا ہے۔لیکن جو راستبازوں کی صحبت کو چھوڑ کر بدوں اور شریروں کی صحبت کو اختیار کرتا ہے تو ان میں بدی اثر کرتی جاتی ہے۔" فرمایا کہ " اسی لئے احادیث اور قرآن شریف میں صحبت بد سے پر ہیز کرنے کی تاکید اور تہدید پائی جاتی ہے اور لکھا ہے کہ جہاں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت ہوتی ہو اس مجلس سے فی الفور اٹھ جاؤ ورنہ جو اہانت سن کر نہیں اٹھتا اس کا شمار بھی ان میں ہی ہو گا۔" پھر آپ فرماتے ہیں کہ "صادقوں اور راستبازوں کے پاس رہنے والا بھی ان میں ہی شریک ہوتا ہے۔اس