خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 453
خطبات مسرور جلد 15 453 ملائے جانا۔دبی زبان سے اختفاء کے ساتھ اپنے عقیدہ کا اظہار کرنا۔" خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 ستمبر 2017 ( ملفوظات جلد 10 صفحہ 130) مجلس میں بیٹھے بھی رہنا اور مداہنت دکھاتے ہوئے یا خوف سے ان لوگوں کی ہاں میں ہاں کہتے رہنا پھر دبی زبان میں کہہ بھی دینا کہ نہیں۔تم یہ غلط کہہ رہے ہو۔یہ بات اس طرح نہیں۔اس طرح ہونی چاہئے۔لیکن کھل کے بات کا اظہار نہ کرنا۔فرمایا کہ یہ جو ہے یہ نفاق ہے۔یہ مومن کا طریقہ کار نہیں ہے۔پس یہ ہے ایک مومن کارڈ عمل ایسی مجلس میں جہاں دین پر ٹھٹھا ہو رہا ہو یا دین کے خلاف منصوبہ بندی ہو رہی ہو یا بڑے طریقے سے ایسی باتیں ہو رہی ہوں جو دل میں وسوسے پیدا کرنے والی ہوں۔مومن کار و عمل یہ ہے کہ کوئی بھی اللہ اور رسول یا اس کی قائم کردہ جماعت کے نظام کے خلاف بات سنو تو سختی سے رڈ کرو اور ان باتیں کرنے والے کو بتاؤ کہ اگر تمہارے خیال میں یہ سب باتیں صحیح ہیں تو خلیفہ وقت اور نظام کو بتاؤ لیکن اس طرح باتیں کرنا جائز نہیں ہے۔ایسی مجالس میں اگر انسان بیٹھا رہے اور دبی زبان میں رڈ کرے اور کھل کر نہ بولے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ نفاق بن جاتا ہے اور اس سے ایک مومن کو بیچنا چاہئے اور دین کے معاملے میں اور نظام کے معاملے میں کبھی بھی بے غیرتی نہیں دکھانی چاہئے۔اور غیرت کا اظہار دو طرح سے ہے کہ یا تو کھل کر جواب دو یا اٹھ کر اس مجلس سے چلے جاؤ۔یہی طریق اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا اور اس کی وضاحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمائی ہے۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک صحابی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یارسول اللہ ! مجھے کوئی نصیحت کریں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جب تم کسی قوم کی مجلس میں جاؤ اور انہیں اپنے مزاج کی باتیں کرتے ہوئے پاؤ تو وہاں ٹھہر و۔یعنی کہ نیکی کی باتیں اگر کر رہے ہیں اور غلط قسم کی باتیں نہیں کر رہے، فتنہ و فساد کی باتیں نہیں کر رہے تو وہاں ٹھہر و۔اور اگر وہ ایسی باتوں میں مشغول ہوں جنہیں تم نا پسند کرتے ہو تو اس مجلس کو چھوڑ دیا کرو۔(مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 368 حدیث 18927 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) اس بات کی بھی آپ نے وضاحت فرمائی کہ کیسی مجلس ایک مومن کو نا پسند ہونی چاہئے۔یہ تو نہیں کہ وہ اپنی ذاتی ناپسند کی باتیں نہیں کر رہے بلکہ ایسی ناپسند جو نظام اور جماعت کے متعلق باتیں ہیں۔فرمایا کہ ایسی مجلس کو چھوڑ دو۔اور اس بارے میں جیسا کہ میں نے کہا کہ ناپسند کیسی ہونی چاہئے ؟ ایک روایت میں آتا ہے حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم کن لوگوں کی مجلسوں میں بیٹھیں؟ آپ صلی للی یکم نے فرمایا کہ تم ان لوگوں کی مجلسوں میں بیٹھو جن کو دیکھ کر تمہیں خدا یاد آئے اور جن کی گفتگو سے تمہارا دینی علم بڑھے اور جن کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔(کنز العمال جلد 9 صفحہ 77 حدیث 25582 كتاب الصحبة قسم الافعال مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2004ء)