خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 452
خطبات مسرور جلد 15 452 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 ستمبر 2017 پھر ادھر اُدھر مجلسیں لگا کر باتیں کرنا اور ایسے انداز میں باتیں کرنا جیسے بڑے راز کی باتیں کی جارہی ہیں، بڑی اہم باتیں کی جارہی ہیں اور جماعت کا بڑا در درکھتے ہوئے باتیں کی جارہی ہیں۔یہ بالکل غلط طریقہ کار ہے اور یہ گناہ اور سرکشی اور رسول کی نافرمانی اور تقویٰ سے دُوری کی علامتیں ہیں۔پس ایسی مجلسوں سے اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی ہوشیار کیا ہے کہ تم ان سے بچو۔کسی عہدیدار کے خلاف شکایت ہے یا امیر کے خلاف شکایت ہے تو مرکز کو شکایت کریں۔خلیفہ وقت تک پہنچا دیں۔اس کے بعد پھر افراد جماعت کا کام ختم ہو جاتا ہے۔اب یہ خلیفہ وقت کا کام ہے کہ کس معاملے کو کس طرح دیکھنا ہے اور کس طرح حل کرنا ہے۔ہاں دعا ہر ایک کو ضرور کرتے رہنا چاہیئے۔ہر احمدی کو درد کے ساتھ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی برائی کو جماعت میں سے نکالے اور جماعت کو تقویٰ پر چلنے والے اور کام کرنے والے ہمیشہ ملتے رہیں۔پس اس اہم بات کو ہر ایک کو یاد رکھنا چاہئے۔جوں جوں جماعت کو اللہ تعالیٰ ترقی دیتا جائے گا اور دے رہا ہے شیطان نے بھی اپنا کام کرنا ہے۔شیطان نے تو پہلے دن سے ہی اللہ تعالیٰ کے سامنے اس بات کا اظہار کر دیا تھا اور اجازت لے لی تھی کہ وہ انسانوں کو ، مومنوں کو بہکانے کا کام کرے گا۔مخالفین احمدیت جہاں کھل کر جماعت کی مخالفت کے منصوبے بناتے ہیں اور بنائیں گے وہاں ہمدردی کے نام پر وہ سادہ لوگوں کو اور کمزور ایمان والوں کو بھی فتنہ پیدا کرنے کے لئے اپنا آلہ کار بناتے ہیں اور بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔پس ہر احمدی کو اس سلسلہ میں ہوشیار رہنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ جماعت کو ہمیشہ ہر اندرونی اور بیرونی فتنہ سے بچائے اور ہمیشہ نیکی اور تقویٰ کی مجلس میں بیٹھنے اور اس کا حصہ بننے کی توفیق دے۔نہ کہ گناہ، سرکشی، رسول کی نافرمانی اور تقویٰ سے دور کرنے والی مجالس کی۔مجلس کی مختلف قسموں اور حالتوں کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ارشادات بھی ہیں اور آپ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بھی بعض ارشادات ہیں وہ بھی اس وقت پیش کرتاہوں۔اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ ایک مومن کی مجلس کیسی ہونی چاہئے اور اگر اس معیار کی مجلس نہ ہو جو ایک مومن کی شایانِ شان ہے تو پھر اس پر کیا رد عمل دکھانا چاہیے ؟ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " ہمارا مذہب تو یہ ہے اور یہی مومن کا طریق ہونا چاہئے کہ بات کرے تو پوری کرے ورنہ چُپ رہے۔جب دیکھو کہ کسی مجلس میں اللہ اور اُس کے رسول پر ہنسی ٹھٹھا ہو رہا ہے تو یا تو وہاں سے چلے جاؤ تا کہ ان میں سے نہ گنے جاؤ اور یا پھر پورا پورا کھول کر جواب دو۔دو باتیں ہیں " اس کے علاوہ کوئی نہیں۔اگر ایک حقیقی مومن ہے تو "یا جواب یا چپ رہنا اور اٹھ کر چلے جانا۔فرمایا کہ " یہ تیسرا طریق نفاق ہے کہ مجلس میں بیٹھے رہنا اور ہاں میں ہاں