خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 451
خطبات مسرور جلد 15 451 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 ستمبر 2017 ہے یہ اس بات کا عملی اظہار ہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور یقین ختم ہو گیا ہے ورنہ اگر ذرا سا بھی اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور یقین ہو تا تو نہ مسلمان سیاستدانوں اور لیڈروں کی یہ حالت ہوتی جو آج ہے اور نہ ہی نام نہاد علماء کی یہ حالت ہوتی جو آج ہمیں نظر آتی ہے۔بہر حال اس زمانے میں ہمارا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ ہم ایسی تمام تر سوچوں سے جہاں اپنے آپ کو پاک کریں اور اللہ تعالیٰ کے خوف اور تقویٰ کو اپنے اندر بڑھائیں وہاں جن کی ان غیر احمدی مسلمانوں تک پہنچ ہے اور تعلقات ہیں وہ جس حد تک اپنے دائرے میں، اپنے حلقے میں مسلمانوں کو سمجھا سکیں سمجھائیں کہ تمہاری یہ حالت نہ صرف تمہیں غیروں کی مکمل غلامی میں لے آئے گی بلکہ تم خدا تعالی کی سزا کے بھی مورد بنو گے۔جس دنیا کے پیچھے تم پڑے ہوئے ہو وہ بھی تمہارے ہاتھ سے جائے گی اور دین کو تم پہلے ہی چھوڑ بیٹھے ہو۔پس اب وقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور تقویٰ دلوں میں پیدا کر دور نہ سب کچھ ہاتھ سے جاتا رہے گا۔دنیاوی مشوروں کی مجالس میں ایک مجلس یو این او (UNO) کی بھی ہے۔ابھی گزشتہ دنوں ہی اس کا ایک اجلاس ہوا۔امریکہ کے صدر کی تقریر تھی۔اس پر یہاں کے جو مغربی مضمون نگار ہیں، تجزیہ نگار ہیں انہوں نے بھی لکھا ہے کہ اس تقریر سے بجائے امن کے فساد اور فتنہ پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہے۔بلکہ یہ بھی انہوں نے کھل کے لکھ دیا کہ شاید اس تقریر سے سعودی عرب اور چند مسلمان ملک خوش ہوئے ہوں گے ورنہ یہ انتہائی مایوس کن اور جنگ اور فتنہ کی آگ بھڑ کانے والی تقریر ہے۔پس مسلمان حکومتوں کو اللہ تعالیٰ کے حکموں کو دیکھنا چاہئے اور ہر قسم کے فتنہ و فساد سے بچنا چاہئے۔بہر حال یہ تو عام مسلمان دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے میں نے بات کی ہے۔لیکن ہمیں اپنی حالتوں کا بھی جائزہ لیتے رہنا چاہئے۔ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ شیطان کو کبھی برداشت نہیں ہو گا کہ وہ جماعت کو ترقی کرتا ہوا دیکھ سکے۔شیطان نے اپنی فطرت کے مطابق ہمارے اندر بھی بے چینی پیدا کرنے اور پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے رہنا ہے۔پس وہ لوگ جو بعض دفعہ اکٹھے ہو کر بیٹھتے ہیں اور اپنے مقامی حلقے یا شہر کے نظام جماعت یا ملک کے نظام جماعت کے متعلق باتیں کرتے ہیں وہ لوگ اصل میں بعض دفعہ بلکہ حقیقت میں شیطان کے بہکاوے میں آ جاتے ہیں۔شیطان کا کام کیونکہ ہمدرد بن کر وار کرنا ہے اس لئے ایسی مجلسوں میں ایسے لوگ بھی شامل ہو جاتے ہیں جو حقیقت میں جماعتی نظام کے خلاف نہیں ہوتے بلکہ جماعت کے درد کو محسوس کرنے کی وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ فتنہ پیدا کرنے والا صحیح کہہ رہا ہے۔وہ اُسے فتنہ پیدا کرنے والا تو نہیں سمجھتے لیکن یہ سمجھتے ہیں کہ اظہار خیال کرنے والا اور ہمدردی کے رنگ میں بات کرنے والا صحیح کہہ رہا ہے اور اصلاح کی ضرورت ہے۔حالانکہ اگر اصلاح کی ضرورت ہے تو ملکی بالا نظام تک اور خلیفہ وقت تک بات پہنچائی جانی چاہئے اور اس کے بعد