خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 19 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 19

خطبات مسرور جلد 15 19 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2017 وہاں لیبارٹری میں ان کا خاص لباس پہنا پڑتا ہے تو وہ وہاں اس ماحول کا لباس پہن سکتی ہیں بیشک حجاب نہ لیں۔وہاں بھی انہوں نے ٹوپی وغیرہ پہنی ہوتی ہے لیکن باہر نکلتے ہی وہ پردہ ہونا چاہئے جس کا اسلام نے حکم دیا ہے۔بینک کی نوکری کوئی ایسی نوکری نہیں ہے کہ جس سے انسانیت کی خدمت ہو رہی ہو۔اس لئے عام نوکریوں کے لئے حجاب اتارنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جبکہ نوکری بھی ایسی جس میں لڑکی روز مرہ کے لباس اور میک آپ میں ہو، کوئی خاص لباس وہاں نہیں پہنا جانا۔پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ حیا کے لئے حیادار لباس ضروری ہے اور پر دہ کا اس وقت رائج طریق حیادار لباس کا ہی ایک حصہ ہے۔اگر پردہ میں نرمی کریں گے تو پھر اپنے حیا دار لباس میں بھی کئی عذر کر کے تبدیلیاں پیدا کر لیں گی اور پھر اس معاشرے میں رنگین ہو جائیں گی جہاں پہلے ہی بے حیائی بڑھتی چلی جارہی ہے۔دنیا تو پہلے ہی اس بات کے پیچھے پڑی ہوئی ہے کہ کس طرح وہ لوگ جو اپنے مذہب کی تعلیمات پر چلنے والے ہیں اور خاص طور پر مسلمان ہیں انہیں کس طرح مذہب سے دُور کیا جائے۔سوئٹزر لینڈ میں ایک لڑکی نے مقدمہ کیا کہ میں لڑکوں کے ساتھ سوئمنگ کرنے میں حجاب محسوس کرتی ہوں مجھے سکول پابند کرتا ہے کہ مکس سوئمنگ ہو گی۔مجھے اس کی اجازت دی جائے کہ علیحدہ لڑکیوں کے ساتھ میں سوئمنگ کروں۔ہیومن رائٹس والے جو انسانی حقوق کے بڑے علمبر دار بنے پھرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے تم یہ چاہتی ہو کہ علیحدہ کرو، یہ تمہارا ذاتی حق تو ہے لیکن یہ کوئی ایسا بڑا ایشو نہیں ہے جس کے لئے تمہارے حق میں فیصلہ دیا جائے۔جہاں اسلام کی تعلیم اور عورت کی حیا کا معاملہ آیا تو وہاں انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی بہانے بنانے لگ جاتی ہیں۔پس ایسے حالات میں احمدیوں کو پہلے سے بڑھ کر زیادہ محتاط ہونا چاہئے۔اگر سکولوں میں چھوٹے بچوں کے لئے بعض ملکوں میں سوئمنگ لازمی ہے تو پھر چھوٹے بچے بچیاں پورالباس پہن کر یعنی جو سوئمنگ کا لباس پورا ہوتا ہے جسے آجکل بر قینی (Burkini) کہتے ہیں وہ پہن کر سوئمنگ کریں۔تاکہ ان کو احساس پیدا ہو کہ ہم نے بھی حیادار لباس رکھنا ہے۔ماں باپ بھی بچوں کو سمجھائیں کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی علیحدہ سوئمنگ ہونی چاہئے۔اس کے لئے کوشش بھی کرنی چاہئے۔اسلام مخالف قوتیں بڑی شدت سے زور لگارہی ہیں کہ مذہبی تعلیمات اور روایات کو مسلمانوں کے اندر سے ختم کیا جائے۔یہ لوگ اس کوشش میں ہیں کہ مذہب کو آزادی اظہار اور آزادی ضمیر کے نام پر ایسے طریقے سے ختم کیا جائے کہ ان پر کوئی الزام نہ آئے کہ دیکھو ہم زبر دستی مذہب کو ختم کر رہے ہیں اور یہ ہمدرد سمجھے جائیں۔شیطان کی طرح میٹھے انداز میں مذہب پر حملے ہوں۔لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اس زمانے میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا کام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے سپر د ہے اور اس کے لئے ہمیں بھر پور کوشش کرنی پڑے گی اور تکلیفیں بھی اٹھانی پڑیں گی۔ہم نے لڑائی نہیں کرنی لیکن حکمت سے ان لوگوں سے معاملہ بھی کرنا ہے۔اگر آج ہم ان کی ایک بات مانیں گے جس کا تعلق ہماری مذہبی تعلیم سے ہے تو پھر آہستہ آہستہ ہماری بہت سی باتوں پر ، بہت ساری