خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 450
خطبات مسرور جلد 15 450 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 ستمبر 2017 پس ایک مومن کا کام ہے چاہے اس کے گھر کی مجلس ہے، بیوی بچوں کے ساتھ ہے یا گھر سے باہر کی مجالس ہیں، ان میں اس کی یہ کوشش رہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی رضا کو کس طرح حاصل کرنا ہے اور اپنی روحانیت کو کس طرح سنبھالنا اور بہتر کرنا ہے۔اپنی اور مومنوں کی حالت کو کس طرح بہتر کرنا ہے۔ایک مومن کی بظاہر دنیاوی مجلس بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے خالی نہیں ہوتی۔دنیاوی کاموں کو کرتے ہوئے بھی لغویات سے وہ پر ہیز کرنے والا ہوتا ہے۔دل اگر دنیاوی کاموں میں مصروف ہے تو اللہ تعالیٰ کی یاد اور ذکر اسے نہیں بھولتا۔مومن کی دنیاوی کاموں کی مجالس میں بھی دھو کہ اور دوسروں کے حقوق غصب کرنے کے لئے باتیں نہیں ہو تیں چاہے وہ دنیاوی کام کر رہا ہے۔جیسا کہ آجکل کی سیاسی اور دنیا داروں کی مجالس میں باتیں ہوتی ہیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے خوف اور تقویٰ کو ہر وقت مد نظر رکھا جاتا ہے اور یہی ایک مومن سے توقع رکھی جاتی ہے کہ ان باتوں کو وہ ہر وقت مد نظر رکھے۔قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو جو مجالس کے بارے میں ہدایت فرمائی ہے وہ یہی ہے کہ مومنوں کی مجالس سرکشی اور بغاوت سے پاک، گناہوں سے پاک، رسول کی نافرمانی سے بچنے والی اور تقویٰ پر چلنے والی ہونی چاہئیں۔لیکن افسوس کہ آجکل مسلمانوں کی اکثر مجالس اس کے بالکل خلاف ہیں اور مسلمان مسلمان کو تباہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔منصوبہ بندی کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ (المجادلة: 10) کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم باہم خفیہ مشورے کرو تو گناہ سرکشی اور رسول کی نافرمانی پر مبنی مشورے نہ کیا کرو۔ہاں نیکی اور تقویٰ کے بارے میں مشورے کیا کرو۔اور اللہ سے ڈرو جس کے حضور تم اکٹھے کئے جاؤ گے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا مسلمان اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو بھول گئے ہیں۔آپس کی پھوٹ نے انتہا کی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو مومن کی یہ نشانی بتائی کہ رُحَماءُ بَيْنَهُمْ (الفتح:30) کہ آپس میں محبت اور الفت کرنے والے ہیں۔لیکن یہاں تو ہمیں وہ حال نظر آتا ہے جو کافروں والا نظارہ اللہ تعالیٰ نے کھینچا ہے جن کے بارے میں فرمایا کہ قُلُوبُهُم شقی (الحشر: 15) کہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔مشورے ہیں آپس میں بھی اور غیروں کے ساتھ خفیہ معاہدوں کی صورت میں بھی تو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتے ہوئے اور تقویٰ سے دُور۔اللہ تعالیٰ کا خوف بالکل نہیں رہا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ سے ڈرو جس کے حضور تم اکٹھے کئے جاؤ گے۔وہاں حکومتیں اور بادشاہتیں اور دولتیں اور مغربی طاقتوں کی آشیر باد کام نہیں آئے گی۔کوئی بڑی طاقت وہاں اللہ تعالی اور اس کے رسول کے حکموں کی نافرمانیوں اور تقویٰ سے دُور ہٹنے کی سزا سے نہیں بچا سکے گی۔اصل میں تو مسلمان کہلا کر پھر دنیا کو اپنا مقصود بنانے والوں اور اس کے پیچھے دوڑنے والوں کی جو حالت