خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 449
خطبات مسرور جلد 15 449 38 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 ستمبر 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 22 ستمبر 2017ء بمطابق 22 تبوک 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: دنیا میں مجلسوں کی بہت سی قسمیں ہیں یا مختلف مجالس کے مختلف مقاصد ہوتے ہیں۔بعض مجالس مشوروں کے لئے ہوتی ہیں جن میں دنیاوی مقاصد کے حصول کے لئے مشورے ہوتے ہیں۔چاہے وہ حکومت چلانے کے لئے مشورے ہوں یا سیاستدانوں کی مجلسوں کے مشورے ہوں یا کاروبار کرنے والوں کی مجلسیں ہوں۔یا پھر کھیل کو د اور تفریح کی باتیں ہوں اس کے لئے تفریحی مجلسیں ہوتی ہیں۔ان کے لئے کمیٹیاں بنتی ہیں۔تفریح کے پروگراموں کو بنانے کے لئے بھی لوگ مل کر بیٹھتے ہیں، سوچتے ہیں۔یا پھر نام نہاد علمی مجالس کے لئے بعض مجلسیں ہوتی ہیں۔غرض کہ یہ سب قسم کی مجالس اور کمیٹیاں اور مل کر بیٹھناد نیاوی کاموں کے لئے ہو تا ہے اور خدا کے لئے یا خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے یا خدا تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے مجالس نہیں ہو تیں۔اگر لوگوں کی بہتری کے لئے بھی کوئی مجلس لگتی ہے، کوئی باتیں سوچی جاتی ہیں تو وہ بھی دنیاوی اغراض کے لئے ہیں۔خدا تعالیٰ کی خوشنودی اس میں بھی مقصود نہیں ہوتی۔لیکن بعض ایسی مجالس بھی ہوتی ہیں جو دینی اغراض کے لئے ہوں، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر کو بلند کرنے کے لئے ہوں، انسانوں کو اللہ تعالیٰ کے قریب لانے کے منصوبے سوچنے سے متعلق ہوں یا روحانیت میں ترقی کرنے کے ذرائع تلاش کرنے کے لئے ہوں۔یا ان مجالس میں شامل ہونے والے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس میں شامل ہوں۔غرض کہ ان مجالس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ ہمارا جو کام بھی ہو ، ہم جو بھی منصوبہ بندی کریں، مجلس کے جو بھی پروگرام ہوں ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہو۔ان میں لغویات سے پر ہیز ہو۔یہ ایسی مجالس ہیں جو خدا تعالیٰ کو پسند ہیں اور ایسی مجالس کے نتائج اس دنیا میں بھی ظاہر ہوتے ہیں اور ایسی مجالس میں شامل ہونے والوں کو اللہ تعالیٰ مرنے کے بعد بھی نوازتا ہے۔