خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 448 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 448

خطبات مسرور جلد 15 448 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 ستمبر 2017 مدد نہیں لیتی تھیں۔آخری وقت تک بچوں کو یہی کہا کہ اپنے وسائل سے ہی زیادہ سے زیادہ علاج کروانے کی کوشش کرو۔مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں دو بیٹیاں اور دو بیٹے یاد گار چھوڑے ہیں۔ان کے ایک داماد جو ہیں وہ فرانس میں رہتے ہیں اور مرا کو کے رہنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔دوسرا جنازہ ڈاکٹر صلاح الدین صاحب نیو جرسی امریکہ کا ہے جو مکرم مولوی امام الدین صاحب مبلغ سلسلہ انڈونیشیا کے بیٹے تھے۔10 ستمبر 2017ء کو ہارٹ اٹیک سے وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔آپ نے کسی سائنس کے مضمون میں وہاں پی۔ایچ۔ڈی کیا تھا۔چھٹیوں میں لندن بھی آجاتے رہے۔خلافت رابعہ میں زیادہ آیا کرتے تھے اور دفتر پی ایس کے علاوہ عملہ حفاظت میں ڈیوٹیاں دیتے تھے۔دفتر کا کام ہو یا حفاظت کی ڈیوٹی ہمیشہ بڑی ذمہ داری سے اپنی ڈیوٹی دیا کرتے تھے۔ان کی شخصیت ایسی پر وقار، نمایاں اور مقبول تھی کہ جلد جلد لوگوں میں اپنی جگہ بھی بنا لیتے تھے۔ہر دلعزیز بھی ہو جاتے تھے۔قد کاٹھ بھی ان کا لمبا تھا۔پھر علم و دانش بھی کافی تھی۔پی ایچ ڈی کیا ہوا تھا اور اپنے علم سے خوب واقفیت تھی۔اس کے علاوہ بھی علم رکھتے تھے۔ان خوبیوں کے باوجو د نہایت عاجز اور طبیعت میں مسکینی تھی۔ہر طرح کے آدمی سے گفتگو کرنے کا ملکہ تھا۔جیسا کہ میں نے کہا کہ خلافت رابعہ میں تو خاص طور پر کافی لمبا عرصہ پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر میں خدمت کی توفیق پائی۔پھر عملہ حفاظت کی ڈیوٹیوں میں بھی کافی چستی سے ڈیوٹی دیتے رہے۔امیر صاحب امریکہ ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر صلاح الدین صاحب نیو جرسی جماعت کے ممبر تھے۔کئی دہائیوں سے جلسہ سالانہ کے موقع پر لنگر خانے میں رضا کاروں کی ٹیم کی نگرانی کر رہے تھے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر ان کی بے لوث اور انتھک خدمت ہم سب کے لئے ایک نمونہ تھی۔نمایاں ہو کر کام کرنے کی بجائے بے نفس ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی پر جوش خدمت کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے اور یہ کہا کرتے تھے کہ مجھے عہدہ نہیں چاہئے۔صرف خدمت میرے سے جو لینی ہے لے لیں۔خلافت سے بھی انتہائی وفا کا تعلق تھا۔میں ان کو بچپن سے ربوہ سے جانتا ہوں۔اور خلافت کے بعد بھی میں نے ان میں خلافت کے لئے پیار اور محبت اور ان کا ایک خاص وفا کا تعلق دیکھا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔ان کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ان کی جو بہنیں ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بھی صبر اور حوصلہ دے اور مولوی امام دین صاحب کی جو اولاد ہے ان میں ان کی نیکیوں کو بھی جاری فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 06 اکتوبر 2017 ء تا 12 اکتوبر 2017ء جلد 24 شمارہ 40 صفحہ 05تا09)