خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 445
خطبات مسرور جلد 15 445 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 ستمبر 2017 ایک نو مبائع جماعت قائم ہوئی تھی لیکن وہاں کے امام نے اس وقت بیعت نہیں کی تھی۔کچھ عرصہ قبل جب اس امام نے بھی جماعت احمدیہ میں شمولیت کا اعلان کیا تو کچھ شر پسند عناصر فتنہ پھیلانے کی غرض سے وہاں پہنچ گئے۔ان افراد نے وہاں جا کر امام سے کہا کہ چونکہ یہ مسجد جس کی تم امامت کرتے ہو مالکیہ فرقے کی ہے اس لئے یا تو احمدیت چھوڑ دو یا پھر اس مسجد کی امامت ترک کر دو۔اس پر امام صاحب نے جواب دیا کہ میں نے ایک لمبے عرصے کی ذاتی تحقیق اور مطالعہ کے بعد احمدیت قبول کی ہے اور چونکہ میں امام ہوں اور ان باتوں کو آپ لوگوں سے زیادہ بہتر سمجھ سکتا ہوں اس لئے میں آپ کو بتاتاہوں کہ احمدیت ہی حقیقی اسلام ہے اور میں آپ کی مسجد اور امامت آپ کے سپرد کرتا ہوں۔لیکن احمدیت کو چھوڑنا میرے لئے ممکن نہیں۔ایسے امام بھی ہیں، علماء بھی ہیں جنہیں سچائی کو سمجھنے اور پرکھنے کی اللہ تعالیٰ نے فراست بھی دی ہوئی ہے۔اس کے مقابلے میں ایک پاکستانی علماء ہیں جن کو صرف اپنی غرض ہے اور اپنا پیٹ بھرنے کی طرف توجہ ہے۔بین سے ایک لو کل معلم توفیق صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دوست با میسورو ( Bamesoro) کریم صاحب کو عیسائیت سے احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔موصوف نے ہمیں اپنے گاؤں بیٹی (Heti) میں تبلیغ کے لئے آنے کی دعوت دی اور کہا کہ چاہے پورے گاؤں میں سے کوئی بھی قبول نہ کرے اور چاہے لوگ میری کتنی ہی مخالفت کیوں نہ کریں میں احمدی ہوں اور احمدی ہی رہوں گا اور اکیلا ہی تبلیغ کرتارہوں گا۔یہ ان لوگوں کا، نئے آنے والوں کا تبلیغ کے بارے میں جوش ہے جو ہم پر انوں کے لئے بھی سبق ہے۔جب ان کے گاؤں میں تبلیغ کی گئی تو ہیں افراد کو بیعت کرنے کی توفیق ملی۔کچھ عرصہ بعد جامعہ احمدیہ نائیجیریا کے ایک طالبعلم بشیر صاحب کو وہاں تربیت کے لئے بھیجا گیا تو مزید ایک سو افراد نے احمدیت قبول کر لی۔احمدیت کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر امام مسجد نے جماعت کی مخالفت شروع کر دی اور روزانہ علی الصبح جماعت کے خلاف وعظ کرنا شروع کر دیا لیکن احمدی ثابت قدم رہے اور گاؤں کے پہلے احمدی با میسورا ( Bamesoro) کریم نے کہا کہ جب تک اس گاؤں میں جماعت کو مسجد کے لئے جگہ نہیں مل جاتی اس وقت تک میراگھر جماعت کے لئے حاضر ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیوں نے وہاں پر جمعہ کی نماز بھی ادا کی۔عید کی نماز بھی ادا کی۔امام مسجد نے دیکھا کہ احمدیت روز بروز ترقی کر رہی ہے تو وہ با میسور و کریم صاحب کے گھر چلا گیا اور اسے کافر کہنا شروع کر دیا۔اس پر کریم صاحب نے کہا کہ جب میں عیسائی تھا تو تم لوگوں میں سے کسی نے مجھے اسلام کا پیغام نہیں دیا۔اب جبکہ میں جماعت احمدیہ کی وجہ سے احمدی مسلمان ہوں تو تم نے مجھے کافر کہنا شروع کر دیا۔میں احمدی ہوں اور احمدی ہی مروں گا۔چنانچہ مولوی کو وہاں سے رسوا ہو کر نکلنا پڑا اور کریم صاحب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک فعال داعی الی اللہ بن چکے ہیں۔انہیں تبلیغ کا بھی بڑا شوق ہے۔باوجود امام مسجد کی مخالفت کے بڑے جوش اور جذبے سے تبلیغ کر رہے ہیں اور نئی بیعتوں کے حصول کا ذریعہ بھی بن رہے ہیں۔