خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 446
خطبات مسرور جلد 15 446 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 ستمبر 2017 برکینا فاسو سے لوکل معلم کو ناتے عبد الحئی صاحب کہتے ہیں کہ ایک نومبائع جیالو (Dialo) ابراہیم نے بتایا کہ وہ مسلمان ہونے کے باوجو د کثرت سے شراب پیا کرتا تھا اور اتنی زیادہ پیتا تھا کہ لوگ ان کو پاگل سمجھتے تھے اور کوئی بھی ان کے قریب نہ جاتا تھا۔ایک دن وہ بیمار ہو گیا اور کوئی بھی ان سے ملنے نہیں آیا۔اس کے بعد انہوں نے احمد یہ ریڈیو سننا شروع کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت سے نوازا۔جماعت میں داخل ہو گئے اور شراب پینی چھوڑ دی۔لیکن کچھ عرصہ بعد دوبارہ بیمار ہو گئے اور اس دفعہ اس قدر بیمار ہوئے کہ انہوں نے سمجھ لیا کہ میرا آخری وقت آگیا ہے۔چنانچہ موصوف نے دعا کی کہ اے اللہ اگر امام مہدی جن کو میں نے مانا ہے بچے ہیں تو اپنی جناب سے مجھے لمبی عمر دے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا سنی۔کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو نہ صرف بیماری سے نجات دی بلکہ ان کو اتنی صحت دی کہ اس کے بعد وہ جلسہ میں بھی شامل ہوئے۔ان کا کہنا تھا یہ سب امام مہدی علیہ السلام کو ماننے کی برکت ہے۔اگر آج وہ زندہ ہیں تو صرف اس لئے کہ انہوں نے سچائی کو مانا۔آئیوری کوسٹ سے ایک دوست دا میلے (Dembele) صاحب اپنی قبولیت احمدیت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں بتوں کی پوجا کیا کرتا تھا۔ایک دن میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بوڑھی عورت مجھے ایک لوٹا اور جائے نماز دیتی ہے اور کہتی ہے کہ نماز پڑھا کرو۔مجھے اس خواب کی سمجھ نہیں آئی۔خواب کی تعبیر کے لئے میں ایک مسلمان عالم کے پاس گیا۔اس نے کہا کہ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ تم نماز پڑھا کرو۔چنانچہ میں نے غیر احمدیوں کی مسجد میں نماز پڑھنی شروع کر دی لیکن ابھی بھی میری توجہ بت پرستی کی طرف تھی۔کچھ دنوں کے بعد میں نے پھر وہی خواب دیکھا۔اس عورت نے پھر مجھے یہی کہا کہ نماز پڑھا کرو۔کہتے ہیں میں پریشان ہوا کہ میں نے تو نماز پڑھنی شروع کر دی ہے پھر اس خواب کا کیا مطلب ہے ؟ اس پر کہتے ہیں میں اپنے بڑے بھائی کے پاس گیا جو احمدی ہے اور اس سے خواب بیان کی۔بڑے بھائی نے مجھے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں احمدیت قبول کرنی چاہئے۔چنانچہ ان کے مشورے پر میں نے جماعت کے مبلغ سے رابطہ قائم کر کے جماعت کے بارے میں معلومات لے کر بیعت کر لی۔بیعت سے پہلے بھی میں نماز پڑھتا تھا لیکن اس کے باوجود میرا دل بت پرستی کی طرف مائل رہتا تھا لیکن احمدیت قبول کرنے کی برکت تھی کہ میرے دل سے بُت پرستی کا خیال بالکل ہی نکل گیا۔احمدیت قبول کرنے کے بعد ہی مجھے حقیقی نماز میسر آئی اور حقیقی خدا کا پتا چلا۔احمدیت کی برکت ہی سے مجھے حقیقی خد املا۔پس نئے احمدیوں کے یہ واقعات پر انوں کے لئے بھی سبق ہیں۔قازان سے مبلغ لکھتے ہیں کہ جون 2014ء سے قازان جماعت نے فرید ابراہیم صاحب کی دکان پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر لگائی۔تصویر کے نیچے یہ تحریر رشین میں لکھی کہ وہ امام مہدی جس کا بہت دیر سے انتظار تھا وہ آچکا ہے اور ساتھ میں جماعت کی ویب سائٹ کا ایڈریس بھی لکھا ہوا تھا۔ان کی دکان شہر کے