خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 443 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 443

443 خطبات مسرور جلد 15 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 ستمبر 2017 مار کر کہتے کہ اللہ تعالیٰ جماعت اور اس کے مبلغ کو ہلاک کر دے۔لیکن اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ اس بد دعا کے کچھ دن بعد ہی ان کے سب سے بڑے امام کو سانپ نے کاٹ لیا۔سارے امام پھر اکٹھے ہوئے اور دوبارہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امام کو بچادے۔مگر ان کا یہ جو بڑا امام تھا خون کی الٹیوں کے بعد فوت ہو گیا۔پھر چند دن بعد اس چیف کو بھی سانپ نے کاٹ لیا جو جماعت کے خلاف بد دعا میں شامل ہوا تھا۔اس کو بھی بچانے کے لئے مولویوں نے مل کر دعائیں کیں مگر ہلاکت سے نہ بچا سکے۔یہ دیکھ کر لوگوں پر خوف طاری ہوا اور خود ہی کہنے لگ گئے کہ احمدیت اور احمدی مبلغ کے خلاف بد دعا کرنے کے نتیجہ میں ایسا ہو رہا ہے۔لیکن مولویوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ سب اللہ نہیں کر رہا بلکہ جنوں نے سانپ چھوڑا ہوا ہے جو لوگوں کو ہلاک کر رہا ہے۔کہتے ہیں کہ ابھی کچھ دن گزرے تھے کہ نائب چیف کو بھی سانپ نے کاٹ لیا اور وہ بھی اسی حالت سے گزر کر ہلاک ہو گیا۔اس کے بعد لوگ ہمارے مبلغ کے پاس آئے اور ہمارے مبلغ کو پتا نہیں تھا کہ اس طرح ان لوگوں نے جماعت کے خلاف بد دعا کی ہے۔لیکن گاؤں والوں نے خود یہ سارا واقعہ بیان کیا اور کہا کہ ہمیں بچاؤ۔ہماری بد دعانے ہمیں پکڑ لیا ہے۔ہمارے لئے کچھ کرو۔چنانچہ مبلغ ان کے گاؤں گئے اور انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تحدسی کے بارے میں بتایا کہ خدا دشمنوں کی بد دعاؤں کو ان کی طرف ہی الٹادے گا اور جماعت کو ترقی دے گا۔اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے تینوں دیہات کے سات سو سے زائد افراد بیعت کر کے احمدیت کی آغوش میں آگئے ہیں۔مخالفین خود بھی بعض دفعہ سعید فطرت لوگوں کے لئے تحقیق حق کے راستے کھول دیتے ہیں۔چنانچہ ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے برکینا فاسو کے ریجن بورومو سے معلم سلسلہ لکھتے ہیں کہ ہماری ایک جماعت پورا (Poura) کے وہابی امام کے بیٹے نے ایک تبلیغی نشست میں شرکت کی جس میں اس نے دیکھا کہ غیر احمدی مولوی جنہوں نے پی ایچ ڈی بھی کر رکھی تھی دلائل دینے کی بجائے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شان میں گستاخی کر رہے ہیں۔اس بات کا اس لڑکے پر بڑا گہرا اثر ہوا اور اس نے جماعت کے بارے میں تحقیقات شروع کر دیں۔ریڈیو پر جماعت کی تبلیغ با قاعدہ سنتا رہا۔ایک دن اپنے والد جو کہ وہابی امام ہیں سے جماعت کے بارے میں پوچھا تو والد نے جواب دیا کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں۔تم ان کے قریب بھی نہ جانا۔لیکن موصوف باقاعدگی سے ریڈیو سنتے رہے۔پھر اس نے ہمارے معلم کے ساتھ رابطہ کیا اور بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہو گیا۔جب والد کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے اپنے بیٹے کو گالیاں دیتے ہوئے گھر سے نکال دیا۔چند دن بعد اس لڑکے کو اپنی والدہ کا فون آیا کہ تمہارے جانے کے بعد گھر کا امن و سکون برباد ہو گیا ہے تم واپس آ جاؤ اور اپنے والد سے صلح کر لو۔ماں کے کہنے پر جب وہ گھر واپس آیا تو دیکھا کہ والد نے سارے گاؤں والوں کو جمع کیا اور کہا کہ یہ میرا بیٹا نہیں ہے۔یہ کافر ہو گیا۔افریقن رواج کے مطابق والد کا ناراض ہونا بہت برا جانا جاتا ہے۔اس پر اس نو احمدی بیٹے