خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 442 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 442

خطبات مسرور جلد 15 442 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 ستمبر 2017 کر لیا تھا اور ایم ٹی اے کے ذریعہ ایک عالمی بیعت میں شامل ہو کر بیعت کے الفاظ بھی دہرائے تھے لیکن دل مطمئن نہیں تھا کیونکہ بیعت کے الفاظ انگریزی میں تھے جن کی مجھے کوئی سمجھ نہ آئی تھی۔مجھے اس طرح بیعت کرنے سے تسلی نہ تھی۔تاہم میرے نزدیک اصل بیعت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر ایمان اور شرائط بیعت پر عمل پیرا ہونے کی کوشش ہے اور میں اسی پر کار بند تھا۔پھر جب جماعت سے رابطے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے میری بیوی کو بھی قبول حق کی توفیق عطا فرمائی اور پھر ہم دونوں نے 2010ء کے شروع میں باقاعدہ طور پر بیعت فارم ارسال کر کے بیعت کرلی۔پھر الجزائر کے ایک دوست ڈاکٹر حجاز کریم صاحب ہیں وہ اپنی بیعت کا واقعہ لکھتے ہیں۔یہ وہاں جماعت کے عاملہ کے ممبر بھی ہیں۔جنرل سیکرٹری بھی ہیں اور گذشتہ دنوں حالات کی وجہ سے اسیر راہ مولیٰ بھی رہ چکے ہیں۔اب بھی ان کے سخت حالات ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات کو بھی دُور فرمائے۔یہ کہتے ہیں کہ میں مسخ شدہ اسلامی تعلیم اور قرآن کریم کی غلط تفاسیر سے بالکل مایوس ہو چکا تھا۔علماء کی تشریحات سن کر سوچتا تھا کہ کیا یہ خدا کا کلام ہو سکتا ہے یہاں تک کہ اردن کے ایک احمدی دوست کے ذریعہ احمدیت اور بانی سلسلہ کی تحریرات سے آگاہی ہوئی۔حضرت مسیح موعود کی تفسیر پڑھنے سے قبل نوافل پڑھ کر دعا کی کہ اللہ تعالیٰ راہ راست کی طرف رہنمائی فرما دے۔جیسے جیسے پڑھتا گیا سینہ کھلتا گیا اور اس کلام کی ہیبت سے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی اور یقین ہو گیا یہ کسی انسان کا کلام نہیں بلکہ یہ الہی وحی ہے۔لیکن بیعت کا فیصلہ کرنے سے قبل استخارہ کیا تو خواب میں دیکھا کہ میں اپنے دوستوں کے ساتھ رات کو شہر سے گزر رہا ہوں اور ایک نور ہمارے ساتھ چل رہا ہے۔اسی دوران فون کی گھنٹی بجتی ہے۔دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کا فون نمبر آرہا ہے۔دل میں فیصلہ کیا کہ میں ان کو واپس کال کرتا ہوں اگر تو انہوں نے فون کا جواب نہ دیا تو وہ سچے نبی ہوں گے ورنہ نہیں۔نہ جانے کیوں خواب میں ہی مجھے یہ خیال آتا ہے کہ نبی فون کا جواب نہیں دیا کرتے۔چنانچہ میں نے فون کیا۔دیر تک گھنٹی بجتی رہی لیکن انہوں نے فون نہ اٹھایا۔اس کے بعد آپ نے میرے سامنے پر ہیبت تجلی فرمائی۔میں نے قرآن کریم کی آیات اور اعوذ باللہ پڑھنا شروع کر دیا تا کہ کہیں شیطان مجھ پر مہدی کا معاملہ مشتبہ نہ کر دے۔اس کے بعد شدت خوف سے جاگ اٹھا۔یہ نماز فجر کا وقت تھا۔مجھے یقین ہو گیا کہ یہ خواب سچی ہے اور پھر میں نے بیعت کر لی۔لوگوں کے لئے کس طرح نشان ظاہر ہوتے ہیں اور بیعت کا ذریعہ بن جاتے ہیں، اس کے بارے میں مبلغ انچارج صاحب سینیگال ایک واقعہ لکھتے ہیں۔کہتے ہیں کہ سینیگال کے ریجین کازاماس (Cazamass) میں تین گاؤں میں احمدیت کا نفوذ ہوا۔ان دیہاتوں میں جماعتی ترقی کو دیکھ کر وہاں جماعت مخالف مولویوں اور چیف نے مل کر جماعت کے خلاف بد دعا کرنے کا فیصلہ کیا۔وہ سارے مسلمان تھے۔قرآن کریم کی تلاوت کر کے زمین پر ہاتھ مار