خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 441
خطبات مسرور جلد 15 441 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 ستمبر 2017 وجہ یہ ہے کہ اس کے ہمدردانہ رویے سے مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ جیسے اس نے مجھے بد انجام سے بچا کر حسن عاقبت اور خیر کثیر کی راہ پر ڈال دیا ہے۔اس راستے پر چلتے چلتے کچھ دیر کے بعد ایک بلند جگہ پر پہنچ کر اپنے پرانے راستے کی طرف دیکھتا ہوں تو وہاں پر ایک جابر شخص کو بعض لوگوں سے جبری مشقت کرواتے ہوئے پاتا ہوں تو میں سوچتا ہوں کہ اگر صالح شخص مجھے اس راستے سے نہ ہٹاتا تو آج میں بھی دیگر کئی لوگوں کی طرح اسی ظلم کا شکار ہو جاتا۔خواب میں ہی مجھے خیال آتا ہے کہ شاید یہ صالح انسان خدا کا نبی موسیٰ علیہ السلام ہے۔کہتے ہیں کافی عرصہ کے بعد جب میر ا جماعت سے تعارف ہوا تو سمجھ میں آیا کہ جس راستے پر میں گامزن تھا وہ تباہی اور بربادی کی طرف جاتا تھا اور جس صالح انسان نے مجھے اس راستے سے اٹھا کر نئے راستے پر ڈال دیا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھے جبکہ نیا راستہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام تھا۔یہ چند نمونے میں نے پیش کئے۔کوئی روس کی سابقہ ریاستوں قازان، قرغزستان سے ہے تو کوئی یورپ کے ملک کا ہے۔کوئی مغربی افریقہ میں سے ہے تو کوئی سینٹرل افریقہ میں سے ہے اور کوئی عرب ملک کا ہے۔مختلف قوموں کے مختلف زبانیں بولنے والے لوگ لیکن ایک ہی طرح کی رہنمائی ان سب کی ہو رہی ہے۔یہ رہنمائی کون کر رہا ہے؟ یقیناً خدا تعالیٰ ان کی راہنمائی فرما رہا ہے جس نے آپ کو فرمایا تھا کہ میں تیرے خالص اور دلی محبوں کا گر وہ بڑھاؤں گا۔پھر مراکش سے ایک احمدی علی اشکور صاحب اپنی بیعت کا واقعہ لکھتے ہیں کہ احمدیت کے تعارف کے ابتدائی ایام میں جب میں "لقاء مع العرب باقاعدگی سے دیکھا کر تا تھا تو میں نے رویا میں دیکھا کہ حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ ایک پہاڑی کی چوٹی کی جانب جانے والے ایک راستے پر چل رہے ہیں۔آپ نے سفید رنگ کا پاکستانی لباس زیب تن کیا ہے۔کہتے ہیں میں حضور کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے پہاڑی کی چوٹی کے قریب پہنچ جاتا ہوں۔اس جگہ سے ہمیں پہاڑی کی چوٹی کے پیچھے سے ایک تیز روشنی نظر آتی ہے جو افق پر پھیل جاتی ہے۔ایسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ طلوع فجر کی سفیدی ہے۔کہتے ہیں مجھے کسی قدر خوف محسوس ہوتا ہے اور میرے قدم ست ہو جاتے ہیں۔کہتے ہیں حضرت خلیفتہ المسیح الرابع اس بات کو ، میرے خوف کو محسوس کرتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو آپ کا پر نور چہرہ دیکھ کر عجیب کیفیت سے دوچار ہو جاتا ہوں اور کہتا ہوں نامعلوم اس پہاڑ کے دوسری جانب کیا ہے جس سے اس قسم کی روشنی نکل رہی ہے۔تو آپ مسکر ا کر فرماتے ہیں میرے پیچھے پیچھے چلتے رہو اور ڈرو نہیں۔کہتے ہیں الحمد للہ کہ باوجو د خوف اور خطرات کے میں اس رؤیا کے مطابق لقاء مع العرب دیکھتے ہوئے حضور کے پیچھے پیچھے ہی چلتا رہا یہاں تک کہ قبول احمدیت کی منزل آگئی۔کہتے ہیں کہ یوں تو میں نے احمدیت کے بارے میں جاننے کے بعد ہی بیعت کا فیصلہ