خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 18 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 18

خطبات مسرور جلد 15 18 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2017 لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ کسی بات کے نتیجہ پر غور نہیں کرتے۔کم از کم اپنے کانشنس سے ہی کام لیں کہ آیا مر دوں کی حالت ایسی اصلاح شدہ ہے کہ عورتوں کو بے پر دہ ان کے سامنے رکھا جاوے۔" ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 134-135) آجکل کے معاشرے میں جو برائیاں ہمیں نظر آرہی ہیں یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک ایک لفظ کی تصدیق کرتی ہیں۔پس ہر احمدی لڑکی لڑکے اور مرد اور عورت کو اپنی حیا کے معیار اونچے کرتے ہوئے معاشرے کے گند سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے نہ کہ یہ سوال یا اس بات پر احساس کمتری کا خیال کہ پردہ کیوں ضروری ہے؟ کیوں ہم ٹائٹ جین اور بلاؤز نہیں پہن سکتیں؟ یہ والدین اور خاص طور پر ماؤں کا کام ہے کہ چھوٹی عمر سے ہی بچوں کو اسلامی تعلیم اور معاشرے کی برائیوں کے بارے میں بتائیں تبھی ہماری نسلیں دین پر قائم رہ سکیں گی اور نام نہاد ترقی یافتہ معاشرے کے زہر سے محفوظ رہ سکیں گی۔ان ممالک میں رہ کر والدین کو بچوں کو دین سے جوڑنے اور حیا کی حفاظت کے لئے بہت زیادہ جہاد کی ضرورت ہے۔اس کے لئے اپنے نمونے بھی دکھانے ہوں گے۔پھر اسی طرح ایک بچی نے پچھلے دنوں مجھے خط لکھا کہ میں بہت پڑھ لکھ گئی ہوں اور مجھے بینک میں اچھا کام ملنے کی امید ہے۔میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ اگر وہاں حجاب لینے اور پردہ کرنے پر پابندی ہو، کوٹ بھی نہ پہن سکتی ہوں تو کیا میں یہ کام کر سکتی ہوں ؟ کام سے باہر نکلوں گی تو حجاب لے لوں گی۔کہتی ہے کہ میں نے سنا تھا کہ آپ نے کہا تھا کہ کام والی لڑکیاں اپنے کام کی جگہ پر اپنا بر قع، حجاب اتار کر کام کر سکتی ہیں۔اس بچی میں کم از کم اتنی سعادت ہے کہ اس نے پھر ساتھ یہ بھی لکھ دیا کہ آپ منع کریں گے تو کام نہیں کروں گی۔یہ اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ یہ ایک نہیں کئی لڑکیوں کے سوال ہیں، تو پہلی بات یہ ہے کہ میں نے اگر کہا تھا تو ڈاکٹر ز کو بعض حالات میں مجبوری ہوتی ہے۔وہاں روایتی برقع یا حجاب پہن کر کام نہیں ہو سکتا۔مثلاً آپریشن کرتے ہوئے۔ان کا لباس وہاں ایسا ہوتا ہے کہ سر پر بھی ٹوپی ہوتی ہے ،ماسک بھی ہوتا ہے ، ڈھیلا ڈھالا لباس ہوتا ہے۔اس کے علاوہ تو ڈاکٹر بھی پردے میں کام کر سکتی ہیں۔ربوہ میں ہماری ڈاکٹر ز تھیں۔ڈاکٹر فہمیدہ کو ہمیشہ ہم نے پردہ میں دیکھا ہے۔ڈاکٹر نصرت جہاں تھیں بڑا پکا پر وہ کرتی تھیں۔یہاں سے بھی انہوں نے تعلیم حاصل کی اور ہر سال اپنی قابلیت کو نئی ریسرچ کے مطابق ڈھالنے کے لئے ، اس کے مطابق کرنے کے لئے یہاں لندن بھی آتی تھیں لیکن ہمیشہ پر دہ میں رہیں بلکہ وہ پردہ کی ضرورت سے زیادہ پابند تھیں۔ان پر یہاں کے کسی شخص نے اعتراض کیا، نہ کام پر اعتراض ہوا، نہ ان کی پیشہ ورانہ مہارت میں اس سے کوئی اثر پڑا۔آپریشن بھی انہوں نے بہت بڑے بڑے کئے تو اگر نیت ہو تو دین کی تعلیم پر چلنے کے راستے نکل آتے ہیں۔اسی طرح میں نے ریسرچ کرنے والیوں کو کہا تھا کہ کوئی بچی اگر اتنی لائق ہے کہ ریسرچ کر رہی ہے اور