خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 440 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 440

خطبات مسرور جلد 15 440 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 ستمبر 2017 قرغزستان جماعت کے نو مبائع اشلن را میل (Ishalin Rameel) صاحب اپنا قبول احمدیت کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔کہتے ہیں میں ایک مسلمان خاندان میں پیدا ہوا۔اس لئے اسلام میرے لئے اجنبی مذہب نہیں تھا۔لیکن میں نے مذہب کی غرض و غایت کے بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا۔جہاں میں کام کرتا ہوں وہاں قرغزستان جماعت کے صدر صاحب سے ملاقات ہوئی۔مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔مذہب کے حوالے سے جب گفتگو کی تو ان کی باتوں سے آہستہ آہستہ اسلام کی حقیقت مجھ پر کھلنی شروع ہو گئی اور مجھے اس بات کا علم ہوا کہ موجودہ دور کے مسلمان حقیقی اسلام پر عمل پیرا نہیں ہیں۔ان سے بات کر کے مجھے میرے سوالات کے جوابات ملنے شروع ہو گئے جو کہ قرآن کریم کے حوالہ جات، سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، احادیث کی مستند کتابیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور میرے جو مختلف خطبات تھے ان کی روشنی میں تھے۔کہتے ہیں میں نے دیکھنا شروع کیا۔اس طرح میں نے پہلی دفعہ قرآن کریم پڑھنا شروع کیا۔پھر کہتے ہیں ایک دن میں نے بیعت کرنے کا فیصلہ کیا۔اسی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے والد صاحب کے دوست نے مجھے ایک طرف اشارہ کر کے کہا کہ اس جگہ پر ایک نشان ہے لیکن اس نشان کے بارے میں کسی کو مت بتانا کیونکہ دہشتگرد آکر اس نشان کو تباہ کر دیں گے۔چنانچہ میں نے جاکر اس نشان کو دیکھا۔وہ ایک بہت بڑا باغ ہے۔اس باغ میں تتلیوں کی طرح کی مخلوق اڑ رہی تھی۔چنانچہ میں سوچنے لگا کہ اللہ تعالیٰ کے اس نشان کو ہم کیسے چھپا سکتے ہیں۔وہ کہتے ہیں اسی دوران میں خواب میں پرندے کی طرح اڑنے لگ جاتا ہوں۔اور میں اڑ کر اپنے والد صاحب کے دوستوں کے گھر گیا وہ چائے پی رہے ہوتے ہیں لیکن مجھے دیکھ کر محض ایک پرندہ تصور کرتے ہیں۔لیکن میں انہیں تین دفعہ اللہ اکبر کہتا ہوں تو وہ گھبرا جاتے ہیں کہ یہ پرندہ کیسے بول سکتا ہے۔کہتے ہیں چنانچہ میں آسمان کی طرف اڑ جاتا ہوں۔پھر آسمان کی طرف اڑتے وقت میں پرندے سے ایک فرشتے میں تبدیل ہو جاتا ہوں۔پھر میں زمین کی طرف دیکھتا ہوں کہ سب لوگ مر چکے ہیں اور کوئی بھی زندہ نہیں ہے۔کہتے ہیں کہ اس کے بعد خواب میں ہی میں اپنے گھر کی طرف اڑ کر آتا ہوں اور گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے میں بیدار ہو جاتا ہوں۔اس خواب کے بعد کہتے ہیں کہ میں نے فیصلہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ روحانی طاقت دی ہے۔چنانچہ اس کے بعد پھر میں نے بیعت کر لی اور جماعت احمدیہ میں شامل ہو گیا۔حمدی محمد عبد الہادی صاحب مصر کے ہیں۔کہتے ہیں کہ احمدیت کے بارے میں جاننے سے کافی عرصہ پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک ویران اور سنسان راستے پر ایک گمنام منزل کی طرف چل رہا ہوں۔ایسے میں ایک صالح شخص آتا ہے اور مجھے اس راستے سے ہٹا کر ایک نئے راستے پر ڈال دیتا ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ میں کوئی مزاحمت کئے بغیر بخوشی اس راستے پر چلنا شروع کر دیتا ہوں جس پر وہ صالح شخص مجھے لا کر کھڑا کر دیتا ہے۔اس کی