خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 439
439 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 ستمبر 2017 خطبات مسرور جلد 15 میں خواب میں خوف کی حالت میں ہی ان کے ساتھ چمٹ جاتی ہوں۔پھر ایک خواب میں دیکھا کہ میری بہن جو احمدی ہو چکی ہے وہ مجھ سے کہہ رہی ہے کہ نماز پڑھو۔یہی ایک راہ ہے۔اسی طرح تیسری رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہوں اور میں نے محسوس کیا جیسے اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھ پر کچھ لکھا ہے۔چنانچہ ان خوابوں کے بعد کہتی ہیں میرے دل میں شرح صدر پیدا ہوا کہ یہ جماعت کی سچائی کے بارے میں ہی خواہیں ہیں اور میں نے بیعت کرلی اور اب پورا خاندان احمدیت میں داخل ہو چکا ہے۔عبد العزیز تر اوڑے صاحب جو آئیوری کوسٹ کے ایک گاؤں شیبو (Chiepo) میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔یہ بیان کرتے ہیں کہ ایک معمر شخص وامارا تر اوڑے (Wamara Traore) صاحب نے ایک دن خواب میں دیکھا کہ ان کے گاؤں میں عرب لوگ آئے ہیں۔خواب میں ہی ان کے آنے پر بعض لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ لوگ اصلی عرب نہیں ہیں۔ان سے دور رہیں۔یہ کہتے ہیں اسی دوران مجھے خواب میں آواز آئی کہ اگر تم خدا تعالیٰ کو پانا چاہتے ہو تو انہی لوگوں کے ذریعہ خدا کو پاؤ گے۔کہتے ہیں کہ اس کے چند دن بعد احمدیوں کے مبلغ ہمارے گاؤں آئے تو بعض لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ مسلمان نہیں ہیں۔ان کو پتا تھا کہ احمدی مبلغ ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ تو مسلمان ہی نہیں ہیں اور ان لوگوں سے دُور رہا جائے۔یہی ہمارے مولویوں کا فتویٰ ہے۔موصوف نے جب یہ دیکھا تو انہیں اپنی خواب یاد آگئی۔اس کے چند روز بعد ہی انہوں نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کرلی۔جلسہ سالانہ آئیوری کوسٹ میں بھی یہ شامل ہوئے اور بڑے جوش اور ولولے سے شامل ہوئے۔کا نگو برازاویل سے بشیر ساکلہ (Basheer Ntsakala) صاحب ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ مجھے پہلی دفعہ 2014ء کے وہاں کے مقامی جلسہ سالانہ میں شرکت کا موقع ملا۔جہاں معلوم ہوا کہ حضرت عیسی وفات پاچکے ہیں اور اب وہ آسمان سے زندہ نہیں اتریں گے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ مسلمان فرقوں میں بٹ جائیں گے اور اسلام صرف نام کا باقی رہ جائے گا۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئیں گے اور صرف ان کی جماعت ہدایت پر ہو گی۔کہتے ہیں کہ پھر میں نے جماعت احمدیہ کے لٹریچر اور کتابوں کا مطالعہ شروع کر دیا جس سے مجھے احمدیت کی سچائی کو سمجھنے کا موقع ملا۔اسی دوران ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص نے مجھے سفید اور گلابی رنگ کا خوشنما لباس دیا ہے۔اور پھر ماہ رمضان میں ایک روز خواب دیکھا کہ میں بہت اعلیٰ بس میں سفر کر رہا ہوں۔اس خواب کے بعد میری تسلی ہو گئی کہ بس چونکہ سفر کا ذریعہ ہے اس لئے میں جس راستے پر جا رہا ہوں وہ بہت اعلیٰ ہے۔پس اس خواب کے بعد میں نے احمدیت قبول کر لی۔