خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 438
خطبات مسرور جلد 15 438 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 ستمبر 2017 لا غَلِبَنَّ انَا وَرُسُلِی۔کہ خدا نے لکھ دیا ہے کہ غلبہ میرا اور میرے رسول کا ہے۔اس وقت تو آپ کا مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ بھی کوئی نہیں تھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا کہ لا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتے کہ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔آپ کی جماعت کے بڑھنے اور جماعتی ترقی کے اور بھی بہت سارے الہامات ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں ترقی دوں گا۔تیرے محبوں کا گر وہ بڑھاؤں گا۔پس آج اس اکیلے شخص کی جماعت جس سے اللہ تعالیٰ نے ترقی کا وعدہ کیا تھا، تمام دنیا میں پھیل چکی ہے اور ہر روز بڑھ رہی ہے۔ہر روز نئے نئے لوگ شامل ہو رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کس طرح راستے کھولتا ہے۔کس طرح یہ شامل ہونے والوں کی رہنمائی کرتا ہے ان کے چند واقعات اس وقت میں پیش کروں گا۔خوابوں کے ذریعہ سے احمدی ہونے والوں کے بعض واقعات ہیں۔قازان سے ہمارے مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں کہ ایک دوست سنت سفیلوکیف کے ساتھ تبلیغی رابطہ قائم ہوا۔ان کے ساتھ سوال وجواب ہوتے رہے۔کچھ عرصہ بعد انہوں نے بیعت کر لی۔اپنی بیعت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خواب میں دکھایا کہ شام کے علاقے میں ہوں اور دو گروہ آپس میں لڑ رہے ہیں۔ان کی لڑائی کے وقت ایک تیسر اگر وہ آتا ہے اور ان دونوں کو سمجھاتا ہے کہ تم ایک دوسرے کو قتل کر کے ظلم کر رہے ہو یہ لڑائی ختم کرو اور آپس میں صلح کرو۔تو وہ اس تیسرے گروہ کے کہنے پر اپنے ہتھیار پھینک دیتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کو گلے لگانا شروع کر دیتے ہیں۔اس پر یہ روسی دوست کہتے ہیں کہ میں کسی سے پوچھتا ہوں کہ یہ تیسری جماعت کون ہے جس نے ان دونوں گروپوں کی صلح کروائی ہے تو مجھے بتایا جاتا ہے کہ یہ جماعت احمدیہ کے افراد ہیں۔اسی طرح ایک دوسری خواب میں یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دکھایا کہ بارش کا موسم بنا ہوا ہے اور ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے اور مجھے آواز آئی کہ احمدیت ہی صحیح عقیدہ ہے۔کہتے ہیں ان خوابوں کے بعد میں نے بیعت کر لی۔فرانس سے ایک خاتون مالکہ صاحبہ ہیں۔وہ اپنی قبولیت احمدیت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ میرے سارے خاندان میں احمدیت کا پیغام پہنچ چکا تھا اور اس حوالے سے اکثر ہمارے گھر میں بات بھی ہوتی رہتی تھی کہ فلاں شخص کی اللہ تعالیٰ نے خواب کے ذریعہ رہنمائی کی اور وہ جماعت میں شامل ہو گیا۔میں یہ باتیں سنتی رہتی تھی لیکن خود میں نے کبھی کوئی بات نہیں کی۔کہتی ہیں کہ ایک دن میں نے خدا کے حضور دعا کی کہ تو مجھے بھی بتا کہ احمدیت سیدھا راستہ ہے یا غلط کہتی ہیں کہ انگلی تین راتوں میں خدا تعالیٰ نے مجھے یکے بعد دیگرے تین خواہیں دکھائیں۔پہلی خواب میں میں نے دیکھا کہ جیسے قیامت آگئی ہے اور ہر طرف افرا تفری ہے۔لیکن میرے بہن بھائی جو احمدی ہو چکے ہیں وہ بالکل افرا تفری میں نہیں بلکہ نہایت خوش ہیں جبکہ میں چیخ و پکار کر رہی ہوں کہ حالات بہت خطر ناک ہیں لیکن وہ بالکل پریشان نہیں بلکہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے جماعت احمدیہ کے اجلاس میں جانا ہے۔