خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 17
خطبات مسرور جلد 15 17 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2017 کیوں ہم تنگ جین اور بلاؤز پہن کر بغیر برقع کے یا کوٹ کے گھر سے باہر نہیں جاسکتیں ؟ کیوں ہم یہاں یورپ کی آزاد لڑکیوں جیسا لباس نہیں پہن سکتیں ؟ پہلی بات تو ہمیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ اگر ہم نے دین پر قائم رہنا ہے تو پھر ہمیں دینی تعلیمات پر عمل کرنا ہو گا۔اگر ہم نے یہ اعلان کرنا ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور دین پر قائم ہیں تو پھر پابندی بھی ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر ، ان کے حکموں پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔(صحيح البخارى كتاب الايمان باب امور الایمان حدیث 9) پس حیادار لباس اور پر دہ ہمارے ایمان کو بچانے کے لئے ضروری ہے۔اگر ترقی یافتہ ملک آزادی اور ترقی کے نام پر اپنی حیا کو ختم کر رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دین سے بھی دُور ہٹ چکے ہیں۔پس ایک احمدی بچی جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہے اس نے یہ عہد کیا ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گی۔ایک احمدی بچے نے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہے، ایک احمدی شخص نے ، مرد نے ، عورت نے مانا ہے، اس نے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیا ہے اور یہ مقدم رکھنا اُسی وقت ہو گا جب دین کی تعلیم کے مطابق عمل کریں گے۔یہ بھی ہماری خوش قسمتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں ہر بات کھول کھول کر بیان فرما دی ہے۔چنانچہ اس بے پردگی اور بے حیائی کے بارے میں آپ ایک جگہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : یورپ کی طرح بے پردگی پر بھی لوگ زور دے رہے ہیں لیکن یہ ہر گز مناسب نہیں۔یہی عورتوں کی آزادی فسق و فجور کی جڑ ہے۔جن ممالک نے اس قسم کی آزادی کو روا رکھا ہے ذرا ان کی اخلاقی حالت کا اندازہ کرو۔اگر اس کی آزادی اور بے پردگی سے ان کی عفت اور پاکدامنی بڑھ گئی ہے تو ہم مان لیں گے کہ ہم غلطی پر ہیں۔لیکن یہ بات بہت ہی صاف ہے کہ جب مرد اور عورت جوان ہوں اور آزادی اور بے پردگی بھی ہو تو ان کے تعلقات کس قدر خطر ناک ہوں گے۔بد نظر ڈالنی اور نفس کے جذبات سے اکثر مغلوب ہو جانا انسان کا خاصہ ہے۔پھر جس حالت میں کہ پردہ میں بے اعتدالیاں ہوتی ہیں اور فسق و فجور کے مرتکب ہو جاتے ہیں تو آزادی میں کیا کچھ نہ ہو گا۔مردوں کی حالت کا اندازہ کرو کہ وہ کس طرح بے لگام گھوڑے کی طرح ہو گئے ہیں۔نہ خدا کا خوف رہا ہے نہ آخرت کا یقین ہے۔دنیاوی لذات کو اپنا معبود بنارکھا ہے۔پس سب سے اول ضروری ہے کہ اس آزادی اور بے پردگی سے پہلے مردوں کی اخلاقی حالت درست کرو۔اگر یہ درست ہو جاوے اور مردوں میں کم از کم اس قدر قوت ہو کہ وہ اپنے نفسانی جذبات کے مغلوب نہ ہو سکیں تو اُس وقت اس بحث کو چھیڑو کہ آیا پردہ ضروری ہے کہ نہیں۔ورنہ موجودہ حالت میں اس بات پر زور دینا کہ آزادی اور بے پردگی ہو گویا بکریوں کو شیر وں کے آگے رکھ دینا ہے۔اِن