خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 431
خطبات مسرور جلد 15 431 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 ستمبر 2017 بعض جگہ ارشادات فرمائے ہیں۔چنانچہ اپنے بارے میں یہ بیان فرماتے ہوئے کہ کس طرح بعض اوقات مخالفین اسلام نے آپ کے جذبات کو انگیخت کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے باوجود آپ نے اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کس طرح امن کو برباد ہونے اور جھگڑے کو بڑھانے سے روکنے کے لئے اپنا رویہ دکھایا۔آپ اپنی کتاب میں تحریر فرماتے ہیں کہ : "خدا جانتا ہے کہ کبھی ہم نے جواب کے وقت نرمی اور آہستگی کو ہاتھ سے نہیں دیا۔" یعنی یہ کبھی نہیں ہوا کہ نرمی اور نرم زبان کو چھوڑیں " اور ہمیشہ نرم اور ملائم الفاظ سے کام لیا ہے " فرمایا کہ "بجز اس صورت کے کہ بعض اوقات مخالفوں کی طرف سے نہایت سخت اور فتنہ انگیز تحریریں پاکر کسی قدر سختی مصلحت آمیز اس غرض سے ہم نے اختیار کی۔" بعض دفعہ سختی کی کیونکہ مخالفین جو علمائے سوء ہیں یا جو شر میں بڑھنے والے لیڈ ر ہیں وہ بڑھ جاتے ہیں جو عوام کو بھی ورغلاتے ہیں۔اس لئے سختی انہی کے جواب میں ہے۔جو تحریروں میں انہوں نے لکھا اسی طرح کی سختی کی۔اسی طرح کی تحریریں لکھیں" کہ تا قوم اس طرح سے اپنا معاوضہ پا کر وحشیانہ جوش کو دبائے رکھے۔اور یہ بھی اس لئے کہ اگر مسلمانوں کے خلاف ہے تو سختی سے یہی جواب دیا جا سکتا ہے جو دے دیا اور اس سے زیادہ جوش دکھانے کی ضرورت نہیں اور وحشیانہ حالت طاری کرنے کی ضرورت نہیں تا کہ دنگا اور فساد ہو فرمایا " اور یہ سختی نہ کسی نفسانی جوش سے اور نہ کسی اشتعال سے بلکہ محض آیت وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل: 126) پر عمل کر کے ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال میں لائی گئی۔" اس وقت بعض دفعہ یہ سختی بھی کرنی پڑتی ہے تو وہ بھی اس آیت کے نیچے ہی آتا ہے اور حکمت عملی کے طور پر اسے استعمال کیا گیا کہ ایسی بات کر وجو صحیح ہو ، موقع کی مناسبت سے ہو اور اس سے اس وقت مخالف کو اس طرز کا جواب دینا ہی ضروری ہو اس لئے بعض دفعہ سختی بھی ہو جاتی ہے لیکن عموماً نرمی ہی دکھانی ہے۔فرمایا کہ اس آیت پر عمل کر کے ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال میں لائی گئی " اور وہ بھی اس وقت کہ مخالفوں کی توہین اور تحقیر اور بد زبانی انتہا تک پہنچ گئی اور ہمارے سید و مولی سرور کائنات فخر موجودات کی نسبت ایسے گندے اور پر شر الفاظ ان لوگوں نے استعمال کئے کہ قریب تھا کہ ان سے نقض امن پیدا ہو تو اس وقت ہم نے اس حکمت عملی کو برتا۔" (البلاغ، (فریاد درد) روحانی خزائن جلد 13 صفحه 385) پس جہاں ایسی صور تحال ہو وہاں جاد لھم بالتی ھی احسن کا مطلب یہ بن جاتا ہے کہ اسی حکمت عملی پر چلتے ہوئے جو دوسرا استعمال کر رہا ہے تھوڑا سا سختی سے بھی جواب دیا جائے۔پس اصل مقصد یہ ہے اور وہ بھی اس لئے کہ فتنہ و فساد ر کے۔پس فتنہ و فساد روکنا اصل مقصد ہے اور پیغام کو صحیح طور پر پہنچانا بھی۔یہ چیزیں ضروری ہیں۔آپ نے کبھی وہ راستہ اختیار نہیں کیا جو مخالفین نے کیا تھا۔اس کے بجائے آپ نے یہ بھی کہا کہ حکومت اور قانون