خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 430 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 430

خطبات مسرور جلد 15 430 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 ستمبر 2017 پہنچانا ہے۔حق کا پیغام دنیا کے ہر شخص تک پہنچانا ہے۔اسلام کی خوبیوں اور خوبصورت تعلیم کو دوسروں پر ظاہر کرنا ہے۔وہ کئے جاؤ۔انسان عالم الغیب نہیں ہے کہ کہے کہ بجائے وقت ضائع کرنے کے میں اس کے پاس ہی جا کر پیغام حق پہنچاؤں جس پر اثر ہونا ہے۔یہ تو انسان کو نہیں پتا کس پر اثر ہونا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں یہ علم دیا ہی نہیں گیا کہ کس پر اثر ہونا ہے اور کس پر نہیں ہونا۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق ہم نتائج کے بارے میں ذمہ دار نہیں ہیں کہ کیوں اس کے مثبت نتائج نہیں نکلے۔کیوں سو فیصد لوگ ہمارے پیغام سے متأثر ہو کر اسلام کو قبول کرنے والے نہیں بنے۔ہمارے سے اگر پوچھا جائے گا تو صرف اتنا جو اللہ تعالیٰ نے ہم سے پوچھنا ہے کہ کیا ہم نے پیغام پہنچایا ؟ یا پھر کیوں ہم نے اپنا تبلیغ کا فریضہ ادا نہیں کیا؟ اور کیوں اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے نہیں کیا ؟ کس نے ہدایت پانی ہے اور کس نے ہدایت نہیں پانی، یہ صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔اگر ہم اپنا فرض پورا کر رہے ہیں تو مرنے کے بعد دنیا کم از کم اللہ تعالیٰ کو یہ نہیں کہہ سکتی کہ ہمیں تو اسلام کا پیغام ملا ہی نہیں تھا اور اگر ہمیں اسلام کا پیغام نہیں ملا تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے۔بعض لوگ پیغام سنتے ہیں، سمجھتے ہیں لیکن پھر بد قسمتی سے کوئی روک ان کے آڑے آجاتی ہے اور قبول نہیں کرتے۔ابھی دو دن پہلے ہی یورپ کے ایک ملک کے مبلغ نے مجھے لکھا کہ فلاں فلاں صاحب جو آپ کو ملے تھے، جرمنی میں جلسہ پر بھی شامل ہوئے تھے ، تبلیغ اور پورے ماحول کا اس پر بہت اچھا اثر ہے۔کئی دفعہ بیعت کرنے کا اس نے ارادہ کیا ہے پھر کوئی روک آڑے آجاتی ہے۔اب یہ تو اللہ تعالیٰ کو پتا ہے کہ اسے قبولیت کی توفیق ملتی ہے یا نہیں ملتی لیکن ہم نے بہر حال اپنا فرض پورا کر دیا۔اسے اسلام کی حقیقی تعلیم سے روشناس کروادیا۔پھر تبلیغ کے ضمن میں ایک بات یہ بھی ہے بعض لوگ پوچھتے ہیں، سوال کرتے ہیں کہ تبلیغ کر کے تم نے کتنے احمدی بنالئے ؟ اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ خود مسلمان تمہیں مسلمان نہیں سمجھتے۔اور پھر یہ بھی کہ کتنا عرصہ لگے گا اس طرح اسلام کی تعلیم پھیلنے میں جس طرح تم لوگ تبلیغ کرتے ہو اور اسلام کا پیغام پہنچارہے ہو ؟ اور پھر یہ بھی ساتھ تسلیم کرتے ہیں کہ بظاہر تمہاری باتیں عقل اور حکمت والی بھی ہیں۔مجھ سے بھی کئی لوگوں نے پوچھا اور مختلف جگہوں پر پوچھتے ہیں۔ابھی جرمنی کے سفر میں بھی ایک جرنلسٹ نے پوچھا تھا۔تو ہمیشہ ہمارا یہی جواب ہو تا ہے کہ ہمیں تبلیغ کرنے کا، پیغام پہنچانے کا حکم ہے۔اس سے ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں اور نہ ہم نے ہٹنا ہے۔ہم اپنا کام کئے جائیں گے۔کس نے ہدایت پانی ہے اور کس نے نہیں پانی، یہ تو اللہ تعالیٰ کو پتا ہے۔ہمارے سپر دجو کام ہے وہ ہم نے کرنا ہے۔لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کا یہ بھی وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کار سول غالب آئیں گے۔انشاء اللہ۔اس لئے ہم اس امید پر قائم ہیں کہ انشاء اللہ تعالی ایک دن اکثریت ہماری ہو جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس آیت کی وضاحت میں جو میں نے تلاوت کی تھی