خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 432
خطبات مسرور جلد 15 432 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 ستمبر 2017 کی پابندی ضروری ہے اور فساد پھیلنے سے روکنے کے لئے دلائل سے ہی آپ نے بات کی اور قانون کی مددلی۔اور بہر حال جہاں غیرت دکھانا ضروری ہے وہاں آپ نے غیرت بھی دکھائی۔ایک اور جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : " آیت جَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کا یہ منشاء نہیں ہے کہ ہم اس قدر نرمی کریں کہ مداہنہ کر کے خلاف واقعہ بات کی تصدیق کر لیں۔کیا ہم ایسے شخص کو جو خدائی کا دعویٰ کرے اور ہمارے رسول کو پیشگوئی کے طور پر کذاب قرار دے " نعوذ باللہ " اور حضرت موسیٰ کا نام ڈاکو رکھے راستباز کہہ سکتے ہیں۔کیا ایسا کرنامجادلہ حسنہ ہے ؟ ہر گز نہیں۔بلکہ منافقانہ سیرت اور بے ایمانی کا ایک شعبہ ہے۔" تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 305 حاشیہ) پس ان چیزوں کا فرق بھی ہمیشہ اس لئے ہمیں اپنے سامنے رکھنا چاہئے کہ مداہنت نہ ہو جائے کہ ہم نے تبلیغ کرنی ہے۔اگلے کو بات سنانی ہے تو اس حد تک نہ ہم چلے جائیں کہ غیرت ہی بالکل ختم ہو جائے۔ہاں جھگڑا اور فساد نہیں کرنا۔لیکن ایک حد تک بعض دفعہ انہی کے الفاظ کو ان پر الٹانا بھی پڑتا ہے۔پس جہاں مخالفین حد سے زیادہ اعتراض میں بڑھ جائیں یا ان کی باتیں ایسی ہو جائیں کہ جو حد سے زیادہ دریدہ دہنی اور گندے الفاظ ہوں تو وہاں بعض دفعہ فتنے کو روکنے کے لئے جواب دینا پڑتا ہے۔اسی طرح آپ نے یہ بھی فرمایا کہ نرمی کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا کہ مداہنہ کر کے اتنا ڈر جاؤ کہ ہاں میں ہاں ملانے لگ جاؤ اور جو خلاف واقعہ بات ہے اس کی تصدیق کی جائے۔حکمت بہر حال ضروری ہے۔نرمی زبان اور اخلاق بھی ضروری ہیں لیکن غلط بات کو غلط کہنا بھی ضروری ہے۔پس اس بات کو بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ حکمت کا مطلب بزدلی نہیں ہے یا اپنے قریب لانے کے لئے غلط بات کی تصدیق کرنا نہیں ہے۔مثلاً آجکل دنیا داروں نے آزادی کے نام پر ایسے قانون بنا دیئے ہیں جن کی شریعت ہر گز اجازت نہیں دیتی اور اگر ان کے خلاف کوئی بات کرے تو کہتے ہیں کہ یہ احمدی بھی اپنے آپ کو شدت پسندی سے دور رہنے والا کہتے ہیں اور اس کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔ظاہر کرتے ہیں کہ ہم شدت پسند نہیں ہیں لیکن بعض معاملات میں یہ بھی شدت پسند ہیں اور مثال وہ یہ دیتے ہیں کہ جیسے عورتوں سے ہاتھ ملانے کا معاملہ ہے یا ہم جنسی کا معاملہ ہے۔ابھی جرمنی میں مجھ سے بعض نے سوال کئے اور میرے جواب پر کچھ نے منفی تبصرہ بھی ہمارے خلاف کیا لیکن اکثریت کو سمجھ بھی آگئی کہ کیا حقیقت ہے۔ہمیں لڑنے کی ضرورت نہیں لیکن جو چیز غلط ہے اسے ہم نے بہر حال غلط کہنا ہے۔گزشتہ دنوں یہاں یو کے (UK) کے ایک سیاسی پارٹی کے ممبر جن کے بارے میں مشہور ہو گیا تھا کہ وہ پارٹی لیڈر بننے کے لئے کھڑے ہوں گے انہوں نے اعلان کیا کہ وہ پارٹی لیڈر بنے کے لئے کھڑے نہیں ہو سکتے کیونکہ