خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 429
خطبات مسرور جلد 15 429 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 ستمبر 2017 قائل کر کے اٹھنا ہے۔تم نے قائل ہو کر ہی اٹھنا ہے جس سے پھر دوسرا چڑ جاتا ہے اور قریب آیا ہوا بھی دُور ہو جاتا ہے اور پہلی بات کا جو اثر ہوا ہوتا ہے وہ بھی زائل ہو جاتا ہے۔اس لئے موقع و محل اور مزاج شناسی بھی تبلیغ کے لئے بہت ضروری ہے اور یہ بات اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ تبلیغ میں جہاں مستقل مزاجی ضروری ہے وہاں ذاتی رابطوں کے بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔ذاتی رابطوں سے ہی دوسرے کی مزاج شناسی ہو سکتی ہے۔پس ہمیں اپنی تبلیغی سر گرمیوں میں ایک تسلسل پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔یہ نہیں کہ سال میں ایک یا دود فعه عشره تربیت منالیا، عشرہ تبلیغ منالیا، سڑکوں پر کھڑے ہو کر لٹریچر تقسیم کر دیا اور سمجھ لیا کہ تبلیغ کا حق ادا ہو گیا۔آجکل یہاں اسائلم لینے والے بہت سے لوگ مختلف عمروں کے آئے ہوئے ہیں۔بعض صحت مند اور جو ان ہیں۔بعض ذرا بڑی عمر کے ہیں اور جب تک ان کے کیسوں کا فیصلہ نہیں ہو جاتا اکثر ان کے پاس وقت ہے اور اکثر وقت وہ فارغ رہتے ہیں۔پس ایسے تمام لوگوں کو اپنی صحت و عمر کے لحاظ سے تبلیغ کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنا چاہئے۔لٹریچر تقسیم کرنے کے لئے کم یا زیادہ وقت دینا چاہئے۔زبان نہیں آتی تو لٹریچر لے جائیں، کیسٹس لے جائیں۔اگر سڑکوں پر لٹریچر تقسیم کرنا ہے تو پھر تقسیم کا مستقل ایک پروگرام رہنا چاہئے اور یہ اسائلم لینے والے اس کے لئے استعمال ہو سکتے ہیں۔ثواب بھی ہے۔نیکی بھی ہے اور تبلیغ کا فریضہ بھی ادا ہو جائے گا اور اسی برکت سے شاید ان کے کیس بھی جلدی پاس ہو جائیں۔بہر حال مستقل تبلیغ کے لئے یہ ہدایات جو ہیں تبلیغ کے شعبہ کی طرف سے ان کو جانی چاہئیں اور لٹریچر مہیا ہوناچاہئے اور پھر اس پر عمل درآمد ہو اور اس طر ز پر باتیں ہونی چاہئیں جو حکمت کے معنوں میں بتائی گئی ہیں۔ان میں عہدیداروں کو بھی شامل ہونا چاہئے اور پرانے رہنے والوں کو بھی شامل ہونا چاہئے۔یہ نہیں کہ صرف اسائلم سیکر ز کے لئے میں نے کہہ دیا تو وہی شامل ہوں۔داعیانِ خصوصی کو بھی صرف نام کے داعیانِ خصوصی بن کر نہیں بلکہ زیادہ وقت دے کر تبلیغ کے اس میدان میں اب آنا چاہئے۔دنیا کے جو حالات ہیں ان میں اب ہمیں کھل کر سب کو بتانا ہو گا کہ یہ حالات تمہارے دنیا داری میں ڈوبنے کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔اس لئے ایک ہی راستہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف آؤ اور سچے دین کی تلاش کرو۔موعظة الحسنة کا جو تبلیغ کا حکم ہے وہ حکمت سے تبلیغ کے معنوں میں بھی آگیا۔یعنی نرمی اور دل پر اثر کرنے والے انداز میں تبلیغ کی جائے۔پس اللہ تعالیٰ نے حکمت اور اچھی نصیحت اور ٹھوس دلیل کے ساتھ جو تبلیغ کا حکم دیا ہے اس کے مطابق چلنا ہمارا کام ہے اور مستقل مزاجی کے ساتھ اسے کرتے چلے جانا ہمارا کام ہے۔اس کے نتائج اللہ نے فرمایا کہ میں نے پیدا کرنے ہیں۔کس نے گمراہی میں بھٹکتے رہنا ہے اور کس نے ہدایت پانی ہے، یہ باتیں اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ایک دوسری جگہ یہ بھی فرمایا کہ تم زبر دستی کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے ہاں تمہارا کام تبلیغ کرنا ہے۔پیغام