خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 428
خطبات مسرور جلد 15 428 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 ستمبر 2017 اسی طرح حکمت کے معنی حلم اور نرمی کے بھی ہیں۔پس تبلیغ میں نرمی اور عقل سے کام لینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔غصہ اور تیزی میں بات کرنے سے دوسروں پر منفی اثر پڑتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ دلیل کوئی نہیں اس لئے غصہ میں جواب دیا جا رہا ہے۔جو غصہ دکھائے اس کے ساتھ بھی نرمی سے بات کرنی چاہئے۔اسلام کی تعلیم پر اعتراض کرنے والوں کو نام نہاد علماء کے غصہ اور شدت پسندی نے ہی موقع دیا ہوا ہے کہ وہ اعتراض کریں۔ور نہ اگر آرام سے بات کی جاتی تو بہت سارے ایسے اعتراض ہیں جو ویسے ہی ختم ہو جاتے۔پھر حکمت کے ایک معنی نبوت کے بھی ہیں۔پس اس کی رُو سے بحث کرنے اور دلائل دینے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرآن کریم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اس کے دلائل اور اس کی تعلیم کے مطابق تبلیغ کرنی چاہئے۔اسلام پر اعتراض کرنے والوں یا اعتراض کرنے والے لوگوں سے متاثر ہونے والوں کے سامنے میں نے دیکھا ہے کہ جب قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں بات کی جائے تو ان پر بہت اچھا اثر پڑتا ہے۔پھر اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ جہالت سے روکنا۔پس ایسے طریق سے بات کرنی چاہئے جو دوسرے کو آسانی سے سمجھ آجائے اور اس کی جہالت کو دُور کرنے والی ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ ارشاد فرمایا ہے کہ لوگوں کے فہم و ادراک کے مطابق ان سے بات کیا کرو۔(كنز العمال جلد 10 كتاب العلم من قسم الاقوال صفحہ 105 حدیث 29268 مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2004ء) پھر اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ حق کے مطابق اور موافق بات کرنی چاہئے۔ہمیشہ سچی اور واقعات کے مطابق بات کرنی چاہئے۔یہ نہیں کہ دوسرے کو متاثر کرنے کے لئے حقائق و واقعات سے ہٹ کر بات کی جائے۔ایسی باتیں جو حقائق اور واقعات کے خلاف ہوں پھر غلط اثر ڈالتی ہیں کیونکہ کسی نہ کسی وقت میں اصل بات ظاہر ہو جاتی ہے۔اس لئے ہمیشہ سچی اور حقائق کے مطابق بات کرنی چاہئے۔پھر حکمت موقع اور محل کے مناسب اور مطابق بات کرنے کو بھی کہتے ہیں۔یعنی اگر یہ خیال ہو کہ ایک دلیل سے مخالف میں غصہ پید اہونے اور اس کے چڑنے کا خطرہ ہے اور پھر بجائے تبلیغی گفتگو کے لڑائی جھگڑے اور فاصلے بڑھنے کا خطرہ ہے تو پھر ایسی دلیل سے اجتناب کرنا چاہئے۔اس بات سے اجتناب کرنا چاہئے اور پھر ایسی بات کرنی چاہئے اور ایسی دلیل دینی چاہئے جو بر محل بھی ہو اور دوسرے کے مزاج کے مطابق ہو اور فاصلے بڑھانے کی بجائے قریب لانے کا باعث ہو۔بعض لوگ ایک مجلس میں ایک بات کرتے ہیں دوسرا وہ بات سنتا ہے اور اچھا اثر لیتا ہے لیکن اس وقت بات کر کے پھر یہ سوچ کر چپ ہو جانے کی بجائے کہ کبھی موقع ملا تو اس مجلس میں دوبارہ اپنی بات کریں، پھر اس شخص کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور بار بار اس کی باتوں کو دہراتے ہیں یا اس کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آج