خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 16 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 16

خطبات مسرور جلد 15 16 2 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2017ء بمطابق 13 صلح 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ دین اور مذہب ان کی آزادی کو سلب کرتا ہے اور ان پر پابندیاں لگاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرج (الحج: 79) یعنی دین کی تعلیم میں تم پر کوئی بھی تنگی کا پہلو نہیں ڈالا گیابلکہ شریعت کی غرض تو انسان کے بوجھوں کو کم کرنا اور صرف یہی نہیں بلکہ اسے ہر قسم کے مصائب اور خطرات سے بچانا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ دین یعنی دین اسلام جو تمہارے لئے نازل کیا گیا ہے اس میں کوئی بھی ایسا حکم نہیں جو تمہیں مشکل میں ڈالے بلکہ چھوٹے سے چھوٹے حکم سے لے کر بڑے سے بڑے حکم تک ہر حکم رحمت اور برکت کا باعث ہے۔پس انسان کی سوچ غلط ہے۔اللہ تعالیٰ کا کلام غلط نہیں ہو سکتا۔اگر اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہو کر ہم اس کے حکموں پر نہیں چلیں گے تو اپنا نقصان کریں گے۔اگر انسان عقل نہیں کرے گا تو شیطان جس نے روز اول سے یہ عہد کیا ہوا ہے کہ میں انسانوں کو گمراہ کر کے نقصان پہنچاؤں گا وہ انسان کو تباہی کے گڑھے میں گرائے گا۔پس اگر اس کے حملے سے بچنا ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکموں کو ماننا ضروری ہے۔بعض باتیں بظاہر چھوٹی لگتی ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کو معمولی سمجھنے کی وجہ سے ان کے نتائج انتہائی بھیانک صورت اختیار کر لیتے ہیں۔پس ایک مومن کو کبھی بھی کسی بھی حکم کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہئے۔آجکل ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کی اکثریت دین سے دور ہٹ گئی ہے اس لئے ان کے برائی اور اچھائی کے معیار بھی بدلتے جارہے ہیں۔مثلاً اس زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ آزادی اور فیشن کے نام پر عورتوں مردوں میں نگ عام ہو رہا ہے۔ترقی یافتہ ہونے کی نشانی یہ ہے کہ کھلے عام بے حیائی کی جائے۔حیا نام کی کوئی چیز نہیں رہی اور ظاہر ہے اس کا اثر پھر ہمارے بچوں اور بچیوں پر بھی ہو گا جو یہاں رہتے ہیں اور کچھ حد تک ہو بھی رہا ہے۔بعض بچیاں جب جوانی میں قدم رکھنے لگتی ہیں تو مجھے لکھتی ہیں کہ اسلام میں پردہ کیوں ضروری ہے؟