خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 421 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 421

خطبات مسرور جلد 15 421 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 ستمبر 2017 الفاظ نے مجھے آج دنیا کی موجودہ حالت کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔قرآنی آیات کا حوالہ دے کر آپ نے یہ بات بالکل واضح کر دی کہ اسلام ہر گز شدت پسندی کا مذہب نہیں ہے اور بتایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسے انسان تھے جو دشمنوں کو بھی معاف فرما دیتے تھے۔کہتے ہیں خلیفہ کی یہ تقریر سن کر مجھے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ اصل میں اسلام کیا چیز ہے۔اسلام تو پیار اور محبت کا مذہب ہے۔اسلام ہر گز ایسا نہیں جس طرح کہ میڈیاد کھا رہا ہے۔جر منی میں گزشتہ دو تین سال سے بیعت کی تقریب بھی ہو رہی ہے۔اس سال جلسہ کے موقع پر گیارہ ممالک سے تعلق رکھنے والے تینتیس افراد نے جلسہ کے دنوں میں شامل ہو کے بیعت کرنے کی توفیق پائی۔ان میں البانیہ ، گیمبیا، گھانا، جرمنی، عراق، یمن، مراکش، فلسطین، سیریا، ترکی اور لتھوینیا تھے۔لمیں (Lamees) عبد الجلیل صاحبہ اسٹونیا سے شامل ہوئی تھیں۔انہوں نے بیعت کی توفیق پائی۔یہ کہتی ہیں کہ میں ایک فلسطینی ہوں اور اسٹونین نوجوان سے شادی شدہ ہوں۔میں دوسری دفعہ جلسہ میں شامل ہو رہی ہوں۔پہلی دفعہ جلسہ میں شامل ہونے کے بعد جماعت کے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات لے کر واپس گئی تھی لیکن اس دفعہ میں نے جلسہ کے دوران بہت دعا کی کہ خدا تعالیٰ مجھے سیدھے راستہ کی ہدایت دے اور اگر جماعت احمد یہ میرے لئے صحیح راستہ ہے اور زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ ہے تو اللہ تعالیٰ مجھے خود ہی ہدایت دے۔کہتی ہیں : چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تسلی دی اور اگلے دن میں نے بیعت کر لی۔میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ اتنے لوگوں نے میرے جلسہ سالانہ میں شمولیت اور میرے احمدی ہونے کے لئے دعا کی۔گزشتہ سال مجھے جلسہ کی ساری تقاریر سننے کا موقع نہیں ملا تھا لیکن اس سال تمام تقاریر نہایت غور سے سنیں جس کے نتیجہ میں پھر اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یقین پختہ کر دیا کہ یہی جماعت سچی ہے۔چنانچہ میں نے بیعت کر لی۔کہتی ہیں میں نے عورتوں کی ایسی اخوت کا جذبہ کہیں اور نہیں دیکھا جو یہاں تھا۔مختلف ممالک سے آئی ہوئی خواتین سے میں نے تعلق بنایا جن سے شاید دوبارہ کبھی نہ مل سکوں لیکن ہمیشہ ان کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھوں گی۔میرا یقین ہے کہ میرا احمدی ہونا اور اس جماعت سے ملنا یہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہوا ہے۔یہ جلسہ کے بارے میں چند تاثرات تھے جو میں نے پیش کئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ بہت سوں کے سینے کھولتا ہے۔بہت سوں کے شکوک و شبہات دور کرتا ہے۔اسلام کی حقیقی تصویر ان کے سامنے آتی ہے۔اللہ تعالیٰ ان برکات کو ہمیشہ پھیلا تا چلا جائے۔میڈیا کوریج کے لحاظ سے جلسہ کے پہلے دن جمعہ کے بعد میرے ساتھ ایک پر یس کا نفرنس بھی تھی جس میں نیشنل اور انٹر نیشنل میڈ یا شامل تھا۔انٹر نیشنل میڈیا میں اٹلی، میسی ڈونیا، آسٹریا، برازیل اور بیلجیم کے ٹی وی اور اخبارات کے نمائندے تھے۔نیشنل لیول پر جرمنی کے چار ٹی وی سٹیشن اور تین پرنٹ میڈیا کے نمائندے موجود