خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 420
خطبات مسرور جلد 15 420 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 ستمبر 2017 لیکن یہ ماحول میں نے آج تک کہیں نہیں دیکھا۔احمدی لوگ بڑے خوش قسمت ہیں کہ ان کے پاس ایک لیڈر ہے جو احمدیوں سے محبت کرتا ہے اور ان کی ہر وقت رہنمائی کرتا ہے۔اس جلسہ میں شامل ہو کر میں اپنے ایمان کو مضبوط محسوس کرتا ہوں۔کہتے ہیں آپ کی جماعت دن بدن بڑھ رہی ہے اور ہم عیسائی دن بدن کم ہو رہے ہیں۔ہمارے چرچ خالی ہو رہے ہیں۔اور امام جماعت احمدیہ سے میں نے پوچھا تو انہوں نے بھی یہی بتایا کہ مادیت بڑھ رہی ہے اور روحانیت کم ہو رہی ہے۔اس وجہ سے (ہی سب کچھ ہوتا ہے۔کہتے ہیں کہ ہمیں لوگوں کو بتانا ہو گا کہ ہمارا ایک مالک ہے اور اس کو مان کر ہی دنیا میں امن کا قیام ہو سکتا ہے۔یہ میری بات انہوں نے quote کی ہے۔ایک سیرین دوست اکرم الدومانی صاحب کہتے ہیں : مجھے جماعت کا تعارف تقریباً ایک ماہ قبل ہوا۔میں احمدیوں کی ایک میٹنگ میں شامل ہوا تھا۔وہاں میں نے پہلی مرتبہ جماعت احمدیہ کے متعلق سنا۔پھر میں اپنی فیملی کے ساتھ جلسہ پر آ گیا۔لوگ بہت اچھے اور مہمان نواز تھے۔جماعتی عقائد کے متعلق بہت محبت اور شفقت سے بات کرتے تھے۔ایک چیز جسے میں جلسہ میں معجزہ خیال کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد ہونے کے باوجود تینوں دن ایک مرتبہ بھی آپس میں لڑائی جھگڑا نہیں ہوا۔یہاں تک کہ حج میں بھی کبھی کبھار لوگ آپس میں لڑ پڑتے ہیں لیکن یہاں میں نے کسی کو ایک دوسرے کے خلاف اونچی آواز سے بات کرتے ہوئے نہیں مشاہدہ کیا۔ایک اور بات بھی جسے میں معجزہ ہی سمجھتا ہوں وہ یہ کہ احمدی مہمان عورتوں کی طرف اخوت اور احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں یہاں تک کہ میری بیوی نے بھی مجھے کہا کہ میں نے کسی کو گندی نظر سے دیکھتے ہوئے نہیں پایا۔پھر اسامہ ابو محمد حلبی بیان کرتے ہیں کہ جلسہ میں اتنی زیادہ حاضری کے باوجود تنظیم سازی بہت اچھی تھی اور امن کے لئے تمام احتیاطی تدابیر بروئے کار لائے گئے تھے اور اتنی کثیر تعداد کے باوجود کارکنوں کی خدمت مثالی تھی۔ہمارے احمدی بھائیوں نے ضیافت اور رہائش میں بہت خوبصورت انداز سے ہماری خدمت کی۔یہ بات بالکل واضح ہے کہ ان کے ہر قول اور فعل میں وہ سچائی نظر آئی جو ہم بہت سے اسلامی فرقوں میں معدوم پاتے ہیں۔میں احمدی تو نہیں لیکن آپ لوگوں کے تمام کاموں کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ایک سیرین دوست محمود صاحب جو پولینڈ میں ہیں، کہتے ہیں کہ امام جماعت احمدیہ کا خطاب سن کر میرا دل خوشی کے جذبات سے بھر گیا۔صرف ایک ہی خطاب میں آپ نے دنیا کے تمام مسائل کا حل بتادیا۔کہتے ہیں آپ نے بتایا کہ مختلف ممالک کے بیچ کس طرح امن قائم ہو سکتا ہے اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہ حل بتایا۔اس کی وجہ سے مجھے اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہونے لگ گیا ہے۔پھر ایک مہمان گرو نگر (Grunniger) صاحب کہتے ہیں امام جماعت احمدیہ نے ایک دوسرے کو سمجھنے اور ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ خیالات کرنے کے حوالے سے بات کی اور اس چیز کی آج دنیا کو ضرورت ہے۔آپ کے