خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 419 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 419

خطبات مسرور جلد 15 419 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 ستمبر 2017 مسائل کا حل موجود تھا۔ایک مہمان کے طور پر میری عزت بھی کی گئی اور میرا ہر طرح سے خیال بھی رکھا گیا۔میں نے جلسہ سالانہ کے عمومی ماحول کو بہت عمدہ پایا۔شاملین جلسہ پر امن، دوستانہ اور مدد کرنے والے تھے۔مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ میری بہت سے اچھے لوگوں سے ملاقات ہوئی جو کہ جماعت کے بارے میں اپنے تجربات پر جوش طریقے سے بتاتے رہے۔میں نے جلسہ کی تقاریر سنیں اور بالخصوص امام جماعت احمدیہ کے خطابات سے خوب حظ اٹھایا جو کہ موجودہ حالات کے بارے میں تھے۔ان خطابات کا پیغام نہایت واضح تھا۔ان میں نئے خیالات تھے اور نئی سمجھ تھی جو میں اپنے ساتھ واپس لے کر جاؤں گی۔امام جماعت احمدیہ کا اختتامی خطاب بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور اس کا مجھ پر ایک خاص اثر ہے۔یہ واقعی دل کو چھونے والا تجربہ تھا۔البانیہ سے اڑتالیس افراد پر مشتمل وفد شامل ہوا۔19 احمدی تھے اور 29 غیر احمدی البانین تھے۔43 گھنٹوں کا سفر طے کر کے یہ پہنچے تھے۔ان میں حکومت کی طرف سے بھی دو نمائند گان آئے تھے۔ایک ان میں سے چیئر مین آف سٹیٹ کمیٹی آن کلٹس (Chairman of State Committee on Cults) تھیں۔پھر اسی طرح ہنگری سے میں افراد کا وفد جلسہ میں شامل ہوا۔گیارہ احمدی افراد تھے۔نو دیگر مہمان تھے۔ایک مہمان آگیا آیاس (Agekjan Ajasztan) صاحبہ کہتی ہیں۔ان کا اصل وطن آرمینیا ہے۔ہنگری میں اپنے شہر گیور (Gyor) میں خاصی مقبول سماجی شخصیت ہیں۔ہنگری میں موجود آرمینین مائنوریٹی (Arminian Minority) کی کیبنٹ (Cabnet) کی ترجمان ہیں۔ہنگری کے مبلغ کہتے ہیں : ایک شام جلسہ کے اختتام پر خود ہی کہنے لگی کہ اتنے ہزاروں مسلمان مردوں کے درمیان بلاخوف پھر رہی ہوں۔یہاں تو ہر ہی مہذب، شائستہ اور نظم و ضبط کا پابند اور عورتوں کا احترام کرنے والا ہے۔میڈیا جو کہتا ہے کہ مہاجرین خاص کر مسلمان غیر مہذب اور عورتوں سے نامناسب سلوک کرنے والے ہیں ان کو یہاں آکر دیکھنا چاہئے کہ یہ مسلمان قوم کیسی سلیقہ شعار ہے۔کہتی ہیں کہ چھوٹا سا بچہ میرے پاس آیا اس نے مجھ سے پوچھا نہیں کہ تم کون ہو یا کہاں سے آئی ہو بلکہ بڑے پیار سے میرے سامنے پانی کا گلاس کر دیا۔جب میں نے پانی پی لیا تو ایک اور بچہ پیچھے سے آیا اور خالی گلاس مجھ سے لے لیا۔یہاں تو بڑے اور بچے سبھی محبت کے سفیر ہیں۔جب حاضری بتائی گئی تو کہتی ہیں کہ عیسائیوں کو اس سے دس گنا کی تعداد میں شامل ہونا چاہئے اور سیکھنا شخص چاہئے کہ مہذب معاشرے میں ایک دوسرے کا باہم احترام کیسے کیا جاسکتا ہے۔ہنگری سے ایک مہمان گیبر ٹامس (Gabor Tamas) صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ جو مذ ہبی ماحول، امن، انسانیت اور اخوت یہاں دیکھنے کا موقع ملتا ہے اور اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے وہ دنیا میں کہیں بھی نہیں ہے۔میں نے امریکہ میں بھی بطور پادری ایک لمبا عرصہ کام کیا ہے اور کافی دنیا دیکھی ہے