خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 418 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 418

خطبات مسرور جلد 15 418 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 ستمبر 2017 بالکل کوئی نئی دنیا ہے۔میں اس بات پر بہت خوش ہوں کہ مجھے تہذیب و تمدن اور مذہب، پہچان، کھانے پینے اور مختلف روایات جیسی بہت سی چیزوں کو دیکھنے کا موقع ملا۔آپ لوگوں کا احمدی ہونے کے ناطے ہر روز ایک عظیم مقصد کے لئے مشکلات کا مقابلہ کرنا اور پھر کوشش کرنا قابل تحسین ہے۔آپ کے خیالات بالکل درست ہیں۔اقدار درست ہیں۔ان میں عالمگیریت پائی جاتی ہے۔لتھوینیا سے آنے والے ایک مہمان بیان کرتے ہیں کہ جماعت کو اتنا قریب سے دیکھنا میرے لئے خوشی کا موجب ہے کیونکہ اس سے قبل مجھے مسلمانوں کے بارے میں کچھ پتا نہیں تھا۔اس جلسہ سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے اور اب میں ایک بہترین انسان کے طور پر زندگی گزار سکوں گا۔اس مذہب کی تعلیمات ایک اچھا انسان بننے میں میری ممد و معاون ثابت ہوں گی۔میرے ساتھ یہاں بہت اچھا برتاؤ کیا گیا ہے۔کہتے ہیں مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میں ہی ایک مہمان ہوں اور ہر ایک آدمی میرے آرام کا خیال رکھ رہا تھا۔میں اس بات کو بہت سراہتا ہوں۔پس غیروں کو بھی (جلسہ میں شامل ہو کر اپنے اندر ایک تبدیلی محسوس ہوتی ہے تو ہم جن کے لئے یہ جلسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے ان کو کس حد تک کوشش کر کے اپنے آپ میں تبدیلیاں پیدا کرنی چاہئیں۔پھر لتھوینیا سے آنے والی ایک مہمان مسز انگریدا (Ingrida) کہتی ہیں کہ اس پروگرام میں میری پہلی شرکت ہے لیکن اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی شمولیت میرے لئے حیرت کا باعث ہے۔یہاں بہت سے مذہب اور تہذیبوں کے لوگ جمع تھے اور سب کے سب ایک دوسرے کی مدد کرنے والے تھے۔دوسرا اس پروگرام کا خوبصورت انتظام بھی حیران کن اور متاثر کن تھا۔اور تقاریر سن کر اور خلیفہ سے ملاقات کر کے میرا جماعت کے بارے میں جاننے کا اشتیاق اور بڑھ گیا ہے۔میں آپ کی کتب ضرور پڑھوں گی کیونکہ امام جماعت احمدیہ کے خطابات سے اس بات کا اندازہ ہوا ہے کہ جو باتیں بتائی گئی ہیں وہ عقل کے قریب ہیں۔میرا یہ تجربہ اچھارہا ہے اور اب میں اگلے سال کے جلسہ کا انتظار کروں گی۔لیکن ایک تجویز بھی انہوں نے جرمنی والوں کو دی ہے۔کہتی ہیں کہ میرے خیال میں وقفوں کے دوران بھی جو مختلف نمائشیں اور پروگرامز منعقد ہوتے ہیں ان میں شمولیت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کر کے بہتری لائی جاسکتی ہے تاکہ لوگ زیادہ شامل ہوں۔اسی طرح کو سودو (Kosovo) سے بھی اٹھارہ افراد کا وفد آیا تھا جس میں ایک غیر از جماعت اور باقی سترہ احمدی تھے۔اسٹونیا سے ایک مہمان لورا ( Laura) صاحبہ کہتی ہیں کہ میں جلسہ سالانہ کے انتظام سے نہایت متاثر ہوئی۔ایسا لگتا تھا کہ انتظامیہ نے ہر قسم کی صور تحال کے لئے پہلے سے سب کچھ سوچ رکھا تھا۔ہر قسم کی ضرورت اور