خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 416 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 416

خطبات مسرور جلد 15 416 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 ستمبر 2017 صحافی تھے۔صحافیوں نے جلسہ سالانہ کے دوران ریکارڈنگ بھی کی۔مختلف لوگوں سے انٹر ویو بھی لیتے رہے اور 28 کو ان کی میرے سے ملاقات بھی تھی۔کہتے ہیں یہ جو ریکارڈنگ ہم نے کی ہے، یہ ساری اور ملاقات وغیرہ کی ہم ڈاکیومینٹری بنائیں گے اور دکھائیں گے۔اس میں بتیس عیسائی دوست تھے۔تیس احمد ی اور دس غیر احمدی دوست تھے۔ان میں سے ایک نے آخری دن بیعت بھی کر لی تھی۔میسی ڈونیا کے شہر بریوو(Beravo) سے آئی ہوئی مہمان بیلا گستاٹر پینچو سکا(Blagica Trencouska)جو پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں، کہتی ہیں کہ میں اس جلسہ میں پہلی بار شامل ہوئی ہوں۔تمام انتظامات زبر دست تھے۔کوئی کمی نہ تھی۔اور مجھے کہتی ہیں کہ تقریروں نے مجھ پر بڑا گہرا اثر چھوڑا ہے۔مجھے اس تقریر سے پتا چلا ہے کہ اسلام کا اصل مطلب امن ہے نہ کہ جنگ۔دراصل اسلام لوگوں کو زندگی کے اہم اور بنیادی امور سکھاتا ہے کہ کس طرح ایک صحت مند معاشرے کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے۔اسلام ہر حال میں یہ سکھاتا ہے کہ نیکی کی جیت ہو اور برائی ہار جائے۔اور کہتی ہیں بہر حال یہی تعلیم ہے اگر ہم اس پر عمل کریں تو دنیا پھر جنگ کے بغیر امن اور محبت کا گہوارہ بن جائے۔پھر یہ کہتی ہیں کہ آپ نے جو عورتوں کے حقوق پر بات کی اس میں بھی میں سمجھتی ہوں کہ یہ بڑی اچھی ہے۔عورت بچوں کی تعلیم و تربیت کے معاملہ میں ذمہ دار ہے اور اس کا کردار اس معاملے میں اہم ہے۔انہوں نے اپنے الفاظ میں اس تقریر کو ، عورتوں کے حقوق کو اس طرح بیان کیا کہ کہتی ہیں۔میں تو خلاصۂ کہوں گی کہ آپ نے یہی کہا تھا کہ عورت گھونسلے کا خیال رکھنے والی ہے اور خاوند گھونسلے کی حفاظت کرنے والا۔میں سمجھتی ہوں کہ خاوند فیملی کا ہیڈ ہے اور عورت گردن دونوں ایک دوسرے کے بغیر قائم نہیں رہ سکتے۔پھر کہتی ہیں کہ بیعت نے بھی مجھ پر بڑا گہرا اثر چھوڑا ہے۔ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ہر طرف لوگ ہی لوگ تھے جو ان لمحات سے محروم نہیں ہونا چاہتے تھے۔تمام راستے ایک ہی سمت کی طرف جا رہے تھے جہاں امام جماعت احمدیہ تھے۔اس وقت جلسہ گاہ سے باہر ایسے تھا جیسے صحرا ہو۔کوئی بھی باہر موجود نہ تھا۔لیکن مجھے بعض شکایات بھی ہیں۔جرمنی والوں کو اس بات پر خوش نہیں ہو جانا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے پردہ پوشی فرمائی ہے لیکن شعبہ تربیت کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ آئندہ حقیقت میں ہی صحر اہو کیونکہ ایسی شکایات ملی ہیں کہ لوگ جلسہ کے دوران باہر پھر رہے تھے اور ایم ٹی اے والے بھی ان کو دکھاتے رہے۔یہ تو ایک اچھی بات ہے کہ حقیقت دکھادی لیکن جلسہ کی کارروائی کے دوران جلسہ کی طرف زیادہ فوکس ہونا چاہئے۔اس ایم ٹی اے کی وجہ سے ہی کم از کم بہت سے لوگوں کو پتالگ گیا ہے کہ کیا خامی تھی۔کہتی ہیں کہ میں نے جلسہ کے دوران اپنے اسلام کے بارے میں علم کو بہت وسیع کیا۔ہو سکتا ہے الفاظ تو