خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 415 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 415

خطبات مسرور جلد 15 415 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 ستمبر 2017 بلغارین وفد کے ایک مہمان فلو اینو (Pyifko Anev) صاحب کہتے ہیں کہ میں پہلی دفعہ ایسے بابرکت جلسہ میں شامل ہوا۔الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔یہاں میں نے یہ سیکھا ہے کہ صرف احمدی لوگ ایسے ہیں جو واقعی امن سکھاتے ہیں۔عزت کرتے ہیں اور دنیا کو جنت بنانا چاہتے ہیں۔یہاں واقعی زندگی کا نور ملتا ہے۔ایسی روشنی جو انسان کو زندگی عطا کرتی ہے۔میں تو اب ساری زندگی تمام لوگوں کو بتاؤں گا کہ اصل اسلام احمدیت ہے جو دنیا میں امن کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ کہتے ہیں اپنے لئے دعا کی درخواست کرتا ہوں۔پھر اس وفد کے ایک مہمان ڈی میروف (Pdemirov) صاحب کہتے ہیں کہ جو آپ کا خطاب تھا اس نے بہت متائثر کیا۔اس میں انسان سے محبت کا ذکر تھا۔اسی طرح کہتے ہیں بچے جب پانی پلاتے تھے اور بہت محبت سے بولتے تھے تو مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔جس قوم کے بچے ایسے ہوں اس کا مستقبل محفوظ ہے۔پھر ایک عیسائی خاتون ڈسلایا (Desislaya) صاحبہ جو سائیکالوجی کی لیکچرر ہیں، کہتی ہیں کہ میں پہلی دفعہ جلسہ میں شامل ہوئی۔یہ جلسہ تو ایک معجزہ ہے۔یہاں محبت، امن، عزت ملتی ہے۔میں نے کوئی جھگڑا نہیں دیکھا۔ہر کوئی ایک دوسرے کی خدمت کر رہا تھا۔مسکراتے چہروں سے ملتے تھے۔میں پر ہیزی کھانا کھاتی ہوں۔ہزاروں لوگوں میں مجھے پر ہیزی کھانا دیا جاتارہا۔بیمار ہوئی تو فور دوائیاں دی گئیں۔کوئی وی آئی پی نہ تھا۔سب برابر تھے۔پھر خطبہ جمعہ نے مجھے بڑا متائثر کیا۔انسان سے محبت، پردہ پوشی، ایک دوسرے کی مدد کرنا، ایک دوسرے کی غلطیوں کا اظہار دوسروں کے سامنے نہ کرنا بلکہ اس کے لئے دعا کرنا یہ تعلیمات جو آپ نے بیان فرمائی ہیں میں سوچتی رہی کہ کاش آج ساری دنیا آپ کی آواز سنے۔اگر دنیا سیدھے راستے پر آنا چاہتی ہے تو اسے ان آوازوں کو سنا ہو گا اور آپ کی تعلیمات کو ماننا ہو گا۔گنی بساؤ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان ابو بکر صاحب، پرتگال میں پبلک سیکیورٹی میں ماسٹر کر رہے ہیں۔یونیورسٹی میں پڑھائی کر رہے ہیں۔کہتے ہیں کہ سیکیورٹی کے جو انتظامات میں نے جلسہ کے موقع پر دیکھے ہیں وہ بہت ہی منفر د تھے۔چالیس ہزار کے مجمع کو سنبھالنا اور وہ بھی پولیس کی مدد کے بغیر یہ ان کے لئے ایک غیر معمولی بات ہے۔اتنے بڑے مجمع کو سنبھالنا تو ایک اسٹیٹ کے لئے بھی مشکل ہو جاتا ہے۔لڑائی جھگڑے اور دنگا فساد کا کوئی نہ کوئی واقعہ ہو جاتا ہے۔یہاں مجھے جلسہ کے دوران پولیس کا کوئی شخص دکھائی نہیں دیا۔اس کے باوجود کسی کو لڑتے نہیں دیکھا بلکہ تمام لوگ پیار ، محبت اور اخوت کے جذبہ سے سرشار نظر آئے۔اس بات نے میرے دل پر بہت اثر کیا ہے۔اب دوسر املک میسی ڈونیا آگیا۔یہاں کے 65 افراد پر مشتمل وفد جلسہ میں شامل ہوا۔ان میں بڑی تعداد میسی ڈونیا سے جرمنی تک تقریباً دو ہزار کلو میٹر کا سفر بذریعہ بس بیالیس گھنٹے میں مکمل کر کے پہنچی۔ان میں چار مختلف ٹیلیویژن کے پانچ صحافی بھی تھے۔تین مختلف علاقائی ٹیلی ویژن کے نمائندے تھے۔ایک نیشنل ٹیلی ویژن کے