خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 414 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 414

خطبات مسرور جلد 15 414 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 ستمبر 2017 پھر بوسنیا سے ایک مہمان دیانا صاحبہ بھی جلسہ میں شامل ہوئیں۔پیشہ کے لحاظ سے نرس ہیں اور جماعت کے ساتھ ، کسی فیملی کے ساتھ ان کے فیملی تعلقات ہیں۔شوہر اور بیٹے کے ساتھ بوسنیا میں جماعتی پروگراموں میں شامل ہوتی ہیں۔بڑا تعاون بھی کرتی ہیں۔یہ اپنے شوہر کے ساتھ اور والدین کے ساتھ اپنے سفر کے اخراجات خود برداشت کر کے یہاں آئیں۔کہتی ہیں کہ جلسہ کے تمام انتظامات بہت احسن رنگ میں سرانجام دیئے گئے۔ان مخلص کارکنان کو دیکھ کر ہمیں خود شرم آتی تھی کہ یہ لوگ ہمارے لئے اس قدر تکلیف برداشت کر رہے ہیں۔پھر جلسہ میں شامل ہونے والے ایک مہمان امیر صاحب جو پہلی دفعہ جلسہ میں شامل ہوئے۔ان پر جلسہ کے ماحول نے بڑا مثبت اثر چھوڑا۔کہتے ہیں کہ میں نے واپس جا کر یہی پیغام دینا ہے کہ یہ جلسہ دیکھ کر میں اپنے دل کی کیفیت کو بیان نہیں کر سکتا۔ان باتوں کو صرف محسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔اس لئے ہر ایک کو چاہئے کہ اس جنت نما معاشرے میں چند دن گزارے تا کہ اس کو حقیقی جنت کے بارے میں ایک یقین پیدا ہو جائے۔ہم میں سے وہ لوگ جو بعض مسائل کھڑے کرنے والے ہیں، آپس میں لڑائیاں رنجشیں پیدا کرنے والے ہیں ان لوگوں کو ان لوگوں کے تاثرات اور تبصرے سن کر شرم آنی چاہئے اور ان کو ہمیشہ ایک دوسرے سے محبت اور پیار سے پیش آنا چاہئے۔اس سال بلغاریہ سے بھی 52 افراد پر مشتمل وفد نے جلسہ جرمنی میں شرکت کی۔اس میں سے ہیں احمدی افراد تھے۔بتیں غیر احمدی مہمان تھے۔اور بس کے ذریعہ تقریباً تیس گھنٹے کا سفر کر کے جرمنی پہنچے۔اس وفد میں بزنس مین بھی تھے، وکلاء بھی تھے، لیکچرر بھی تھے ، طلباء بھی تھے اور عام طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل تھے۔ایک خاتون ایسی نو واس (Acenova) کہتی ہیں کہ میں پہلی دفعہ جلسہ میں شامل ہوئی ہوں۔بلغاریہ کے احمدیوں سے جلسہ کے بارے میں بہت سنا تھا۔وہاں کئی قوموں کے لوگ ایک جگہ جمع تھے۔اس جلسہ میں ہر ایک دوسرے سے عزت اور محبت سے مل رہا تھا۔انسان اگر اپنی زندگی تبدیل کرنا چاہے تو جلسہ پر آئے۔میں نے یہاں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔دو چیزوں کا ذکر ضرور کرنا چاہتی ہوں۔ایک تو یہاں اللہ سے محبت سکھائی جاتی ہے۔دوسرے لوگوں میں ایک دوسرے سے محبت اور عزت سکھائی جاتی ہے۔بلغاریہ بھی وہ ملک ہے جہاں جماعت کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی ہے اور وہاں کے جو غیر احمدی علماء ہیں ان کی طرف سے مخالفت انتہا پہ پہنچی ہوئی ہے اور جس کی وجہ سے حکومت بھی ان کے زیر اثر ہے۔اس لئے بلغاریہ کی جماعت کے لئے بھی دعا کریں۔اللہ تعالیٰ وہاں بھی حالات بہتر کرے اور جماعت کی دوبارہ رجسٹریشن بحال ہو جائے اور کھل کے تبلیغ کرنے اور جماعت کی ایکٹویٹیز (activities) کو سرانجام دینے کی اللہ تعالیٰ ہمیں دوبارہ توفیق عطا فرمائے۔