خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 413 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 413

خطبات مسرور جلد 15 413 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 ستمبر 2017 کی بہتری کے لئے کوشش کرتے رہنا چاہئے۔لیٹویا سے قرطبہ یونیورسٹی کی پروفیسر لولی ڈیاس (Lolly Diaz) صاحبہ نے جلسہ میں شامل ہو کر اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے لکھا کہ میں زندگی میں پہلی بار مسلمانوں کے اتنے بڑے جلسہ میں شامل ہوئی ہوں۔میں نے امام جماعت احمدیہ کو پہلی مرتبہ جب قریب سے دیکھا تو میرے لئے ایک عجیب تجربہ تھا۔اس کی کیفیت مجھے زندگی بھر یاد رہے گی۔میرے جذبات اور میرے الفاظ میرے جذبات کا ساتھ نہیں دیتے۔میرا یقین ہے کہ جماعت اور اس جماعت کے خلیفہ دیگر مسلمانوں سے بالکل مختلف ہیں اور میں اس فرق کو اپنی روح میں محسوس کرتی ہوں۔ہر احمدی نے ان پر ایک اثر ڈالا جو وہاں شامل ہوا۔اس سال بوسنیا سے چھیالیس افراد کا وفد جلسہ میں شامل ہوا۔ان میں اٹھارہ احمدی تھے اور باقی تقریباً اٹھائیں زیر تبلیغ تھے۔ایک مہمان یاسمین صاحبہ جو ایک این جی او (NGO) کی صدر بھی ہیں ان کا کچھ عرصہ پہلے جماعت سے تعارف ہوا اور جلسہ میں شامل ہوئیں۔اپنی کار میں یہ خود ہی بارہ سو کلومیٹر سفر طے کر کے آئیں۔کہتی ہیں کہ جلسہ کے اتنے بڑے انتظام کو دیکھ کر مجھے حیرانی ہوئی کہ یہ کس قسم کے لوگ ہیں۔جلسہ کے تمام انتظامات میں مجھے کہیں بھی نقص نظر نہیں آیا۔پس یہ کارکنوں کی خدمت کا اثر ہے جو غیروں کو متاثر کئے بغیر نہیں رہتا۔پھر ایک مہمان نجاد صاحب بوسنیا کی رومن کمیونٹی کے ایک معروف مشہور سیاستدان ہیں۔دانشور کے طور پر جانے جاتے ہیں اور شہر ٹوز لا (Tuzla) کے کونسلر بھی ہیں۔کہتے ہیں جلسہ کے تمام انتظامات بہت ہی احسن رنگ میں سر انجام دیئے گئے۔میں نے اس سے قبل کبھی اس قسم کے پروگرام میں شرکت نہیں کی تھی۔یہ جلسہ میرے لئے مختلف جہت سے سبق آموز تھا۔کارکنان کا اخلاص دیکھ کر میں یہی سمجھا کہ یہ لوگ ایمان میں بہت مضبوط ہیں اور ان کے قول اور عمل میں مطابقت ہی ان کی ترقی کا راز ہے اور ان لوگوں میں اس حالت کو پیدا کرنے کی وجہ ان کی خلافت سے وابستگی ہے۔پس جب یہ لوگ شامل ہوتے ہیں تو خلافت کا ان کے ذہنوں میں جو غلط تصور ہے اور جس کا خوف ہے وہ بھی دُور ہوتا ہے۔پس ہر احمدی کو ، ہر کارکن کو چاہئے کہ ان تاثرات کو ہمیشہ قائم رکھیں اور اس کی حفاظت بھی کریں۔ایک غیر از جماعت دوست ماہر صاحب اپنی اہلیہ کے ساتھ اپنے ذاتی خرچ پر جلسہ میں شامل ہوئے۔کہتے ہیں کہ جس طرح سے یہاں مہمانوں کا خیال رکھا جاتا ہے اور جس محبت سے لوگ پیش آتے ہیں میں حقیقت میں کہتا ہوں کہ اگر یہ لوگ ہمیں زمین پر سونے کے لئے کہیں اور کھانے کو صرف سوکھی روٹی ہی کیوں نہ دیں ہمیں ان سے کوئی شکایت نہیں ہو گی کیونکہ ہمیں جو پیار اور محبت یہاں سے ملا ہے اس کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں۔