خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 412 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 412

خطبات مسرور جلد 15 412 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 ستمبر 2017 کروں اور اس جماعت کے ساتھ مزید تعلق مضبوط کروں۔مجھے آپ لوگوں میں شامل ہو کر ایک دلی اطمینان ملا۔پھر میسی ڈونیا کی ایک سوشل ویلفیئر کی تنظیم میں کام کرنے والی تین خواتین وہاں آئی ہوئی تھیں۔ایک کہتی ہیں کہ وہاں میسی ڈونیا میں ہمارے ارد گرد بہت سے مسلمان رہتے ہیں مگر اسلام کی یہ قسم اور اس کا ایسا معاشرتی مظاہرہ ہمارے لئے بالکل غیر متوقع ثابت ہوا۔ہم نے آپ کے افراد اور آپ کی تعلیمات اور آپ کی لیڈر شپ کو دیکھا ہے اور ہم اس احساس کے ساتھ واپس جائیں گی کہ وہاں کے مسلمانوں کو آپ کی جماعت کا تعارف کرواسکیں۔کہتی ہیں کہ یہ جماعت اور اس کے جلسے دیگر مسلمانوں کے لئے نمونہ ہیں اور ایسی پر امن تعلیم اور ایسی منظم جماعت اس قابل ہے کہ بین الا قوامی سطح پر مسلمانوں کی نمائندگی کرے۔کہتی ہیں اس دفعہ تو ہم کسی کی دعوت پر یہاں آئے ہیں مگر ہمیں امید ہے کہ آئندہ ہم مہمانوں کو ساتھ لے کر آئیں گی اور میسی ڈونیا جا کر ہم خود وہاں کے مسلمانوں کو آپ کی جماعت کا تعارف کرائیں گی۔تو اس طرح اللہ تعالی تبلیغ کے راستے کھولتا ہے۔لیٹویا (Latvia) سے ایک عیسائی دوست مائیکوکس (Mykolas) صاحب آئے ہوئے تھے۔طالبعلم ہیں اور مذاہب پر تحقیق میں دلچسپی رکھتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ میں مذہب میں گہری دلچسپی رکھتا ہوں اور اسی وجہ سے آپ کی جماعت کی تعلیمات کو میں نے پڑھا اور اب اس کا عملی اظہار دیکھ رہا ہوں۔مجھے آپ کی تعلیمات اور آپ لوگوں کا طرز عمل مثبت اور پرکشش لگتا ہے۔میں نے جلسہ میں شامل ہونے والے لوگوں میں ایک روحانی لگن محسوس کی ہے۔جلسہ میں شامل ہونے والے احمدیوں کا اب ہمیشہ یہ کام ہے کہ یہ لوگ جو روحانی لگن محسوس کرتے ہیں یہ ہم میں جلسہ کے دنوں کی لگن نہ ہو ، عارضی نہ ہو بلکہ مستقل رہنے والی لگن ہو۔لیٹویا سے ایک جر نلسٹ خاتون آگسٹین (Augustine) صاحبہ نے اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ میں گزشتہ چھ ماہ سے اسلام کے مختلف فرقوں پر ایک پراجیکٹ پر کام کر رہی ہوں۔اس سلسلہ میں میں استنبول بھی گئی اور وہاں مختلف اسلامی فرقوں سے ملی ہوں لیکن یہاں امام جماعت احمدیہ کو دیکھ کر میرے دل کی جو کیفیت ہوئی اس کو بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔میں نے ان سے ملاقات کے دوران پوچھا (انہوں نے مجھ سے سوال کیا تھا) کہ اس وقت ملائیت اور انتہا پسندی کا کیا علاج ہے ؟ تو انہوں نے یہ کہہ کر دو لفظوں میں ہی اس مشکل سوال کا مکمل جواب دے دیا کہ مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ صحیح تعلیم و تربیت اور اسلام کی صحیح تعلیم دی جائے۔کہتی ہیں کہ واقعی ان مسائل کا حل صحیح تعلیم ہی ہے اور اس زمانے میں ہمیں اس صحیح تعلیم کا ادراک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق نے دیا ہے اور ہمیں یہ تعلیم بتائی ہے۔پس ہر احمدی کو غیروں کے اس تاکثر پر صرف فخر ہی نہیں کرنا چاہئے بلکہ ہمیں ہر وقت اپنی عملی حالتوں