خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 411
خطبات مسرور جلد 15 411 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 ستمبر 2017 کام کرتے ہیں وہ اس سال جرمنی جلسہ میں شامل ہوئے۔وہ اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں جب اپنے غیر مسلم دوستوں کو اسلام پر اعتراض کرتے ہوئے سنتا تھا تو مسلمانوں کی باہمی منافرت اور جھگڑوں کی وجہ سے میں اسلام کا دفاع نہیں کر پاتا تھا۔آج اس جلسہ میں آپ کی جماعت کے اجتماعی اور انفرادی امن و محبت اور باہمی یگانگت کو دیکھ کر اور آپ کے افراد میں خلیفہ کے لئے محبت اور اطاعت کا مشاہدہ کر کے میر اسر فخر سے بلند ہو گیا ہے کہ میں نے ایک ایسی جماعت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے جس کے افراد پر امن ہیں، جن کا اجتماع منظم ہے۔کہتے ہیں کہ اب میں اپنے غیر مسلم دوستوں کو آپ کی مثال بڑے اعتماد سے پیش کر کے ان کے اسلام پر اعتراضات کا دفاع کر سکتا ہوں۔پھر ایک جرمن دوست مشائیل فیشر (Michael Fischer) صاحب جلسہ میں شامل ہوئے۔کہتے ہیں کہ میں اس جلسہ میں شامل ہونے سے پہلے اخبار میں پڑھتا رہتا تھا کہ احمدی امن پسند لوگ ہیں لیکن میرے دل میں آتا تھا کہ امن کا دعویٰ تو اور بھی بہت لوگ کرتے ہیں۔اب یہاں آکر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ امن کے دعوے اور عملی مطابقت کی گواہی صرف اس جلسہ میں ہی مل سکتی ہے جہاں لوگ پیار اور محبت سے خود بھی وقت گزار رہے ہیں اور آنے والے دیگر لوگوں کو بھی خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔اتنا بڑا اجتماع اور اتنا پر امن ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے ورنہ تو کہیں پانچ سو آدمی بھی اکٹھے ہوں تو لڑائی ہو جاتی ہے۔کہتے ہیں کہ میں جلسہ میں شامل ہو کر اور آپ کے اس پر امن ماحول کو دیکھ کر آپ کے امن کے دعویٰ کی تصدیق کرتا ہوں۔پھر ایک جرمن خاتون ماراسی اگالا (Maraczo galla) ہیں۔جماعت کے ساتھ ان کا مستقل رابطہ ہے۔جلسہ کے دوران انہوں نے بیعت کا پروگرام بھی دیکھا۔وہ کہتی ہیں میرے سوال تو تقریباً سارے ایک ایک کر کے سارے حل ہو گئے ہیں۔اب مجھے لگتا ہے کہ میں اب زیادہ دیر مہمان بن کر نہیں آؤں گی بلکہ اب میری خواہش ہے کہ میں خود بھی بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو جاؤں۔پھر ایک خاتون مار یہ جوزے (Maria Josey) ہیں۔ان کا اصل تعلق جنوبی امریکہ سے ہے اور برلن میں طالب علم ہیں۔پڑھنے کے لئے یہاں آئی ہوئی ہیں، وہ اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ میرا اس سے پہلے اسلام یا احمدیت سے کوئی تعارف نہیں تھا۔پیراگوئے کے مربی سلسلہ کی بیگم کے ذریعہ مجھے جماعت کے بارے میں علم ہوا اور مجھے پتالگا کہ جرمنی میں جماعت احمدیہ کا جلسہ ہوتا ہے۔چنانچہ میں جلسہ میں شرکت کے لئے آگئی۔یہاں آکر میں بہت حیران ہوئی کہ اتنی قوموں، نسلوں اور رنگوں کے لوگ ایسی یگانگت کے ساتھ رہ رہے ہیں اور ہر طرف امن اور سکون کی فضا ہے۔سب لوگ مطمئن ہیں۔کسی کو بھی کوئی خوف نہیں۔میرے لئے ایسے پرامن اجتماع میں شرکت ایک نیا تجربہ ہے اور میری خواہش ہے کہ میں برلن واپس جا کر جماعت احمدیہ کی مسجد سے رابطہ