خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 15 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 15

خطبات مسرور جلد 15 15 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جنوری 2017 غرباء کے وظائف جاری کئے ہوئے تھے نہ صرف اپنے نام سے بلکہ اپنی اہلیہ اور والد صاحب اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے نام سے بھی وظائف جاری کئے ہوئے تھے۔جب بھی کسی کی درخواست آتی تو اس کو مارک کر دیتے کہ اس کو میرے کھاتے سے وظیفہ دے دیا جائے یا اہلیہ کے کھاتے سے یا کسی اور کے کھاتے سے۔اور یہ بھی انہوں نے بڑا صحیح لکھا ہے کہ حمید نصر اللہ خان صاحب جماعت احمدیہ لاہور کی ایک تاریخ تھے۔ان میں بہر حال اللہ تعالیٰ کی طرف سے لیڈرانہ صلاحیت بھی تھی اور اس کا صحیح استعمال بھی وہ کرتے تھے۔ناصر شمس صاحب جو فضل عمر فاؤنڈیشن کے سیکرٹری بھی ہیں لکھتے ہیں (جیسا کہ میں نے بتایا کہ بنتیں سال صدر بھی تھے ) کہ فضل عمر فاؤنڈیشن میں حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی وفات کے بعد 1986ء میں ان کا بطور صدر تقرر ہوا اور تادم آخر تقریباً 32 سال تک ان کو بطور صدر فضل عمر فاؤنڈیشن خدمت کی توفیق ملی۔بہت ہی ہمدرد، غمگسار، شفیق، نرم خو اور خوش مزاج انسان تھے۔تعلقات کا دائرہ بہت وسیع تھا اور ان تعلقات کو ہمیشہ جماعتی مفاد کے لئے استعمال کرتے تھے۔ایک انتہائی مخلص فدائی خادم سلسلہ، خلفاء کے سلطان نصیر ، خلافت کے لئے انتہائی غیرت رکھنے والے باوفا انسان تھے۔باوجو د کمزوری اور علالت طبع کے فاؤنڈیشن کے اجلاسات میں شامل ہوتے رہے۔بہت صائب الرائے اور معاملہ فہم تھے۔اپنی خداداد صلاحیت سے معاملہ کی تہہ تک پہنچ جاتے اور پھر باہمی مشاورت سے فیصلہ کرتے۔مرزا ندیم صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے خود سنایا کہ جب انہیں 1975ء میں امیر جماعت مقرر کیا گیا تو بڑی گھبراہٹ میں ربوہ جا کر حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ملاقات کا پیغام بھجوایا۔حضرت خلیفہ ثالث نے ان کو بلایا اور پوچھا کیا وجہ ہے، کس طرح آئے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ میں اس عہدے کے قابل نہیں ہوں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے فرمایا اچھا کھانے کا وقت ہو رہا ہے پہلے کھانا کھاؤ۔اور چوہدری صاحب اُس وقت بھی اپنی بات دہراتے رہے۔اس کے بعد پھر کہتے ہیں کہ حضرت خلیفہ ثالث نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ تمہیں خلیفہ وقت نے امیر بنایا ہے اور خدا کا خلیفہ بہتر جانتا ہے۔کہتے ہیں کہ اس کے بعد بہت سارے کٹھن سے کٹھن حالات آئے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں کبھی نہیں گھبر ایا اور خلافت کی دعاؤں کی وجہ سے میرے ہر کام ہوتے رہے۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحمت کا سلوک فرمائے۔ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کی اولاد کو بھی وفا کے ساتھ خلافت اور جماعت سے وابستہ رکھے اور ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔(الفضل انٹر نیشنل مورخہ 27 جنوری 2017ء تا02 فروری 2017ء جلد 24 شماره 04 صفحہ 05 تا09)