خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 410
خطبات مسرور جلد 15 410 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 ستمبر 2017 اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔اور لوگ خطوں میں یہی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایم ٹی اے کے کارکنوں پر فضل فرمائے اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔اسی طرح مختلف شعبہ جات میں کام کرنے والے کارکن ہیں جو جلسہ پر رضا کارانہ طور پر خدمت کر رہے ہوتے ہیں اور مہمانوں کی خدمت میں انہوں نے دن رات ایک کیا ہوتا ہے۔یہ بھی اب ہزاروں کی تعداد میں بڑے ملکوں میں ہو گئے ہیں۔جن میں مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی ہیں۔نوجوان لڑکے لڑکیاں بھی ہیں اور بچے بچیاں بھی ہیں اور وہ ایک ایسی روح کے ساتھ کام کر رہے ہوتے ہیں جو صرف اس زمانے میں جماعت احمدیہ میں نظر آتی ہے جس کا نظارہ چند ہفتے پہلے ہم نے یہاں یو کے (UK) کے جلسہ سالانہ پر دیکھا تھا اور وہی نظارہ اب جرمنی کے جلسہ سالانہ پر دیکھا۔پس میں جو ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ تمام شامل ہونے والوں کو ان رضا کاروں کا شکریہ ادا کرنا چاہئے جو ایک جذبہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے بے نفس ہو کر کام کر رہے ہوتے ہیں اور انہی کارکنوں کے یہ عمل غیر احمدی مہمانوں یا غیر مسلم مہمانوں کے لئے خاموش تبلیغ کا ذریعہ بن رہے ہوتے ہیں۔جلسہ کے پروگراموں میں جو ایم ٹی اے پر دکھائے جاتے ہیں اس کے بارے میں تو لوگ اپنے تبصرے بھیجتے رہتے ہیں۔ان پروگراموں سے فائدہ بھی اٹھا رہے ہوتے ہیں اور لطف اندوز بھی ہو رہے ہوتے ہیں۔لیکن جلسے پر آئے ہوئے غیروں کے تاثرات، احساسات اور کارکنوں کی خدمت پر جذبات کا اظہار تو نہ ہی جلسہ کے دنوں میں دکھایا اور بتایا جاتا ہے ، نہ ہی یہ کسی طرح سے پتا چل سکتا ہے۔یہ کارکنان جو علاوہ اپنی ڈیوٹیوں کے ایک خاموش مبلغ کا کام کر رہے ہوتے ہیں اس کا پتا نہ ہی ایم ٹی اے کی سکرین دے رہی ہوتی ہے ، نہ ہی پر وگرام پیش کرنے والے اس کا حق ادا کر سکتے ہیں۔اسی طرح شاملین جلسہ بھی اپنے رویے سے ایک اچھا اثر مہمانوں پر چھوڑ رہے ہوتے ہیں جس کا اظہار مہمان بعد میں کرتے ہیں۔پس ضروری ہے کہ جلسہ سالانہ کے اثرات اور تاثرات کا یہ حصہ بھی لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے اور اس لئے میں یہ پیش کرتا ہوں تاکہ دنیا میں رہنے والے احمدیوں کو بھی پتا چلے کہ جلسہ کے اثرات کس طرح غیروں کے لئے غیر معمولی اثر کا باعث بنتے ہیں اور شامل ہونے والوں اور کارکنوں کو بھی پتا لگے کہ ان کے رویے کس طرح خاموشی سے غیر از جماعت لوگوں کو اسلام کی خوبصورت تعلیم کے قریب لا رہے ہوتے ہیں۔اس وقت میں اس حوالے سے مختلف ملکوں سے آئے ہوئے مہمانوں کے تاثرات پیش کروں گا تا کہ جلسہ کی برکات کا یہ حصہ بھی ہمارے سامنے آجائے اور اللہ تعالیٰ کی مزید شکر گزاری کا موقع ملے اور اپنی حالتوں کو مزید بہتر کرنے کی طرف ہماری توجہ ہو۔ایک عربی النسل مسلمان دوست خالد میاز (Khalid Myaz) صاحب جو ریڈ کر اس تنظیم کے ساتھ