خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 407
خطبات مسرور جلد 15 407 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اگست 2017 میدان میں غلبہ اور نصرت نہیں دیئے جاتے۔" فرماتے ہیں "غضب نصف جنون ہے۔جب یہ زیادہ بھڑکتا ہے تو پورا جنون ہو سکتا ہے۔" فرماتے ہیں کہ "ہماری جماعت کو چاہئے کہ گل نا کر دنی افعال سے دُور رہا کریں۔وہ شاخ جو اپنے تنے اور درخت سے سچا تعلق نہیں رکھتی وہ بے پھل رہ جاتی ہے۔سو دیکھو اگر تم لوگ ہمارے اصل مقصد کو نہ سمجھو گے اور شرائط پر کار بند نہ ہو گے " جن شرائط پر بیعت کی ہے " تو ان وعدوں کے وارث تم کیسے بن سکتے ہو جو خدا تعالیٰ نے ہمیں دیئے ہیں۔" پس وعدوں کا حصہ بننے کے لئے، آپ کی دعاؤں سے فیض پانے کے لئے اگر کسی میں بری عادتیں ہیں تو ان حالتوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔یہاں بھی جلسے پر بہت سے لوگ اس لئے آتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں سے حصہ لیں۔لیکن اگر عملی حالت ٹھیک نہیں ہے تو دعاؤں سے حصہ کس طرح ملے گا۔یہ تو آپ نے خود ہی فرما دیا۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 126-127) غصہ کی بجائے کس قسم کی حالت ایک مومن کی ہونی چاہیئے ؟ اس بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ "ایسانہ ہو کہ تمہارا اس وقت کا غصہ کوئی خرابی پیدا کر دے جس سے سارا سلسلہ بد نام ہو یا کوئی مقدمہ بنے جس سے سب کو تشویش ہو۔" یہاں بھی جلسے پر لوگ آتے ہیں۔بعض نوجوان لڑائیاں بھی کر لیتے ہیں۔بعض پرانی رنجشوں کو لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔اس لئے جب یہ چیزیں باہر نکلتی ہیں تو سلسلہ بدنام ہو تا ہے۔فرمایا کہ "سب نبیوں کو گالیاں دی گئی ہیں۔یہ انبیاء کا ورثہ ہے۔ہم اس سے کیونکر محروم رہ سکتے تھے۔"ہمیں بھی لوگ گالیاں دیتے ہیں۔"ایسے بن جاؤ کہ گویا مسلوب الغضب ہو۔تم کو گو یا غضب کے قوی ہی نہیں دیئے گئے۔اب یہ تو غیر وں کے لئے فرمایا کہ غیر بھی تمہیں گالیاں دیتے ہیں تو تم نے اپنا غصہ دبانا ہے۔لیکن آپس میں تو بالکل ہی یہ حالت نہیں ہونی چاہئے کہ ایک دوسرے پہ غصے کا اظہار ہو رہا ہو۔فرمایا کہ "دیکھو اگر کچھ بھی تاریکی کا حصہ ہے تو نور نہیں آئے گا۔نور اور ظلمت جمع نہیں ہو سکتے۔جب نور آ جائے گا تو ظلمت نہیں رہے گی۔تم اپنے سارے ہی قومی کو پورے طور سے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں لگا دو۔جو جو کمی کسی قوت میں ہو اسے اُس پان والے کی طرح جو گندے پان تلاش کر کے پھینک دیتا ہے اپنی گندی عادات کو نکال پھینکو اور سارے اعضاء کی اصلاح کر لو۔یہ نہ ہو کہ نیکی کرو اور نیکی میں بدی ملا دو۔تو بہ کرتے رہو۔استغفار کرو۔دعا سے ہر وقت کام لو۔" ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 128) فرماتے ہیں کہ " ہمارے غالب آنے کے ہتھیار استغفار۔تو بہ۔دینی علوم کی واقفیت۔خدا تعالیٰ کی عظمت کو مد نظر رکھنا اور پانچوں وقت کی نمازوں کو ادا کرنا ہیں۔نماز دعا کی قبولیت کی کنجی ہے۔جب نماز پڑھو تو اس میں دعا کرو اور غفلت نہ کرو۔اور ہر ایک بدی سے خواہ وہ حقوق الہی کے متعلق ہو خواہ حقوق العباد کے متعلق ہو بچو۔" (ملفوظات جلد 5 صفحہ 303)