خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 406
خطبات مسرور جلد 15 406 خطبہ جمعہ فرموده مورخه 25 اگست 2017 درندگی رہی تو پھر سخت افسوس اور کم نصیبی ہے۔" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کا دعوی ہے، آپ کے غلام کی بیعت کا دعویٰ ہے تو اپنے اخلاق کو بھی اعلیٰ کرنا ہو گا۔اگر ہم پھر بھی اسی طرح رہیں گے ، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہیں، درندگی رہے، ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہیں تو سخت افسوس ہے اور کم نصیبی ہے۔فرمایا " پس دوسروں پر عیب نہ لگاؤ کیونکہ بعض اوقات انسان دوسرے پر عیب لگا کر خود اس میں گرفتار ہو جاتا ہے اگر وہ عیب اس میں نہیں۔لیکن اگر وہ عیب سچ سچ اس میں ہے تو اس کا معاملہ پھر خدا تعالیٰ سے ہے۔" فرماتے ہیں کہ "بہت سے آدمیوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے بھائیوں پر معانا پاک الزام لگا دیتے ہیں۔ان باتوں سے پر ہیز کرو۔بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچاؤ اور اپنے بھائیوں سے ہمدردی۔ہمسایوں سے نیک سلوک کرو۔اور اپنے بھائیوں سے نیک معاشرت کرو اور سب سے پہلے شرک سے بچو کہ یہ تقویٰ کی ابتدائی اینٹ ہے۔" (ملفوظات جلد 6 صفحہ 341 تا 344) اپنے بھائی کی غلطی کو دیکھ کر کیا طریق اختیار کرنا چاہیئے ؟ آپ اس کی مزید وضاحت فرماتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: صلاح تقومی، نیک بختی اور اخلاقی حالت کو درست کرنا چاہئے۔" فرماتے ہیں " مجھے اپنی جماعت کا یہ بڑا غم ہے کہ ابھی تک یہ لوگ آپس میں ذراسی بات سے چڑ جاتے ہیں۔عام مجلس میں کسی کو احمق کہہ دینا بھی بڑی غلطی ہے۔اگر اپنے کسی بھائی کی غلطی دیکھو تو اس کے لئے دعا کرو کہ خدا اُسے بچالے۔یہ نہیں کہ منادی کرو۔جب کسی کا بیٹا بد چلن ہو تو اس کو سر دست کوئی ضائع نہیں کرتا بلکہ اندر ایک گوشہ میں سمجھاتا ہے کہ یہ برا کام ہے اس سے باز آجا۔پس جیسے رفق۔حلم اور ملائمت سے اپنی اولاد سے معاملہ کرتے ہو ، ویسے ہی آپس میں بھائیوں سے کرو۔جس کے اخلاق اچھے نہیں ہیں مجھے اس کے ایمان کا خطرہ ہے کیونکہ اس میں تکبر کی ایک جڑ ہے۔اگر خدا راضی نہ ہو تو گویا یہ برباد ہو گیا۔پس جب اس کی اپنی اخلاقی حالت کا یہ حال ہے تو اسے دوسرے کو کہنے کا کیا حق ہے ؟" آپ فرماتے ہیں کہ "خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اس کا یہی مطلب ہے کہ اپنے نفس کو فراموش کر کے دوسرے کے عیوب کو نہ دیکھتا ر ہے بلکہ چاہئے کہ اپنے عیوب کو دیکھے۔چونکہ خود تو وہ پابند ان امور کا نہیں ہو تا اس لئے آخر کا رلِمَ تَقُولُونَ مَالَا تَفْعَلُونَ کا مصداق ہو جاتا ہے۔" ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 368-369) پھر مغلوب الغضب غلبے اور نصرت سے محروم ہو جاتے ہیں، مدد سے محروم ہو جاتے ہیں۔جن کو غصہ آتا ہے ان کے بارے میں بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ: " یاد رکھو جو شخص سختی کرتا اور غضب میں آجاتا ہے اس کی زبان سے معارف اور حکمت کی باتیں ہر گز نہیں نکل سکتیں۔وہ دل حکمت کی باتوں سے محروم کیا جاتا ہے جو اپنے مقابل کے سامنے جلدی طیش میں آکر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔گندہ دہن اور بے لگام کے ہونٹ لطائف کے چشمہ سے بے نصیب اور محروم کئے جاتے ہیں۔غضب اور حکمت دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔جو مغلوب الغضب ہوتا ہے اس کی عقل موٹی اور فہم گند ہوتا ہے۔" غصہ میں آنے والے کی عقل ماری جاتی ہے۔" اس کو کبھی کسی