خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 403
خطبات مسرور جلد 15 403 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 اگست 2017 کی طرف توجہ دلانے والی ہونی چاہئے اور آپ کی بیعت کی حقیقت کو سمجھنے والی ہونی چاہیئے۔حقیقی نماز کیا ہے؟ اس کی وضاحت فرماتے ہوئے آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : "نماز اُس وقت حقیقی نماز کہلاتی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ سے سچا اور پاک تعلق ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اطاعت میں اس حد تک فنا ہو اور یہاں تک دین کو دنیا پر مقدم کرلے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں جان تک دے دینے اور مرنے کے لئے تیار ہو جائے۔جب یہ حالت انسان میں پیدا ہو جائے اُس وقت کہا جائے گا کہ اس کی نماز نماز ہے۔مگر جب تک یہ حقیقت انسان کے اندر پیدا نہیں ہوتی اور سچے اخلاص اور وفاداری کا نمونہ نہیں دکھلا تا اُس وقت تک اس کی نمازیں اور دوسرے اعمال بے اثر ہیں۔" فرماتے ہیں " بہت سی مخلوق ایسی ہے کہ لوگ ان کو مومن اور راستباز سمجھتے ہیں مگر آسمان پر ان کا نام کا فر ہے۔اس واسطے حقیقی مومن اور راستباز وہی ہے جس کا نام آسمان پر مومن ہے۔دنیا کی نظر میں خواہ وہ کا فرہی کیوں نہ کہلاتا ہو۔" اب دنیا ہمیں کا فر کہتی ہے تو ہمیں اس کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں اگر ہمارے عمل نیک ہیں۔اگر ہمارا خد اتعالیٰ سے تعلق ہے تو پھر ہمیں اللہ تعالیٰ موسسن کہتا ہے۔فرماتے ہیں کہ "حقیقت میں یہ بہت ہی مشکل گھائی ہے کہ انسان سچا ایمان لاوے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ کامل اخلاص اور وفا داری کا نمونہ دکھلاوے۔جب انسان سچا ایمان لاتا ہے تو اس کے بہت سے نشانات ہو جاتے ہیں۔قرآن شریف نے سچے مومنوں کی جو علامات بیان کی ہیں وہ ان میں پائی جاتی ہیں۔ان علامات میں سے ایک بڑی حقیقی ایمان کی ہے وہ یہی ہے کہ جب انسان دنیا کو پاؤں کے نیچے کچل کر اس سے اس طرح الگ ہو جاتا ہے جیسے سانپ اپنی کینچلی سے باہر آجاتا ہے۔"دنیا پھر اس کے پاس نہیں رہتی۔اصل مقصد خدا تعالیٰ کو راضی کرنا ہو تا ہے۔دنیا تو ساتھ مل ہی جاتی ہے۔فرمایا اس طرح پر جب انسان نفسانیت کی کینچلی سے باہر آجاتا ہے تو وہ مومن ہوتا ہے اور ایمان کامل کے آثار اس میں پائے جاتے ہیں۔چنانچہ فرمایا ہے۔اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُون (النحل: 129) - یعنی بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو تقویٰ سے بھی بڑھ کر کام کرتے ہیں یعنی محسنین ہوتے ہیں۔" ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 240-241) پھر یہ بیان فرماتے ہوئے کہ حقیقی نیکی کیا ہے ؟ آپ فرماتے ہیں کہ : "تقویٰ کے معنے ہیں بدی کی باریک راہوں سے پر ہیز کرنا۔مگر یاد رکھو نیکی اتنی نہیں ہے کہ ایک شخص کہے کہ میں نیک ہوں اس لئے کہ میں نے کسی کا مال نہیں لیا۔"کسی کا مال نہیں اڑایا۔"نقب زنی نہیں کی۔چوری نہیں کرتا۔بد نظری اور زنا نہیں کرتا۔" فرماتے ہیں " ایسی نیکی عارف کے نزدیک ہنسی کے قابل ہے کیونکہ اگر وہ ان بدیوں کا ارتکاب کرے اور چوری یاڈاکہ زنی کرے تو وہ سزا پائے گا۔پس یہ کوئی نیکی نہیں کہ جو عارف کی نگاہ میں قابل قدر ہو۔بلکہ اصلی اور حقیقی نیکی یہ ہے کہ نوع انسان کی خدمت کرے۔اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں کامل صدق اور وفاداری دکھلائے اور اس کی راہ میں جان تک دے