خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 404
خطبات مسرور جلد 15 404 خطبہ جمعہ فرموده مورخه 25 اگست 2017 دینے کو تیار ہو۔اسی لئے یہاں فرمایا ہے : إِنَّ الله مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُون یعنی الله تعالى أن کے ساتھ ہے جو بدی سے پر ہیز کرتے ہیں اور ساتھ ہی نیکیاں بھی کرتے ہیں۔یہ خوب یاد رکھو کہ نرابدی سے پر ہیز کرنا کوئی خوبی کی بات نہیں جب تک اُس کے ساتھ نیکیاں نہ کرے۔بہت سے لوگ ایسے موجود ہوں گے جنہوں نے کبھی زنا نہیں کیا۔خون نہیں کیا۔چوری نہیں کی۔ڈاکہ نہیں مارا اور باوجود اس کے اللہ تعالیٰ کی راہ میں کوئی صدق و وفا کا نمونہ انہوں نے نہیں دکھایا۔یا نوع انسان کی کوئی خدمت نہیں کی اور اس طرح پر کوئی نیکی نہیں کی۔پس جاہل ہو گا وہ شخص جو ان باتوں کو پیش کر کے اسے نیکو کاروں میں داخل کرے۔کیونکہ یہ تو بد چلنیاں ہیں۔صرف اتنے خیال سے اولیاء اللہ میں داخل نہیں ہو جاتا۔" فرمایا کہ " بد چلنی کرنے والے، چوری یا خیانت کرنے والے، رشوت لینے والے کے لئے عادت اللہ میں ہے کہ اسے یہاں سزادی جاتی ہے۔وہ نہیں مرتاجب تک سزا نہیں پالیتا۔یاد رکھو کہ صرف اتنی ہی بات کا نام نیکی نہیں ہے۔تقویٰ ادنیٰ مرتبہ ہے۔اس کی مثال تو ایسی ہے جیسے کسی برتن کو اچھی طرح سے صاف کیا جاوے تا کہ اس میں اعلیٰ درجہ کا لطیف کھا نا ڈالا جائے۔اب اگر کسی برتن کو خوب صاف کر کے رکھ دیا جائے لیکن اس میں کھانا نہ ڈالا جائے تو کیا اس سے پیٹ بھر سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔کیا وہ خالی بر تن طعام سے سیر کر دے گا؟ ہر گز نہیں۔اسی طرح پر تقویٰ کو سمجھو۔تقویٰ کیا ہے نفس آثارہ کے بر تن کو صاف کرنا۔" ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 241 تا 243) پس بر تن کو صاف کر کے اس میں پھر نیک اعمال کا کھانا بھرنا اور پھر اسے کھانا ہی وہ اصل بات ہے جو انسان کو خدا تعالیٰ کا قرب دلاتی ہے اور اس کی رضا حاصل کرنے والا بناتی ہے۔بہت بڑی بڑی برائیوں میں سے ایک برائی اور گناہ جھوٹ ہے۔اس سے بچنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : "میں نے غور کیا ہے قرآن شریف میں کئی ہزار حکم ہیں اُن کی پابندی نہیں کی جاتی۔ادنی ادنی سی باتوں میں خلاف ورزی کر لی جاتی ہے۔یہاں تک دیکھا جاتا ہے کہ بعض جھوٹ تو دکاندار بولتے ہیں اور بعض مصالحہ دار جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ نے اس کو رجس کے ساتھ رکھا ہے۔مگر بہت سے لوگ دیکھے ہیں کہ رنگ آمیزی کر کے حالات بیان کرنے سے نہیں رکتے اور اس کو کوئی گناہ بھی نہیں سمجھتے۔ہنسی کے طور پر بھی جھوٹ بولتے ہیں۔انسان صدیق نہیں کہلا سکتا جب تک جھوٹ کے تمام شعبوں سے پرہیز نہ کرے۔" (ملفوظات جلد 5 صفحہ 120) ایک اعلیٰ خلق پردہ پوشی ہے جو صرف خُلق ہی نہیں بلکہ اس سے انسان بہت سے جھگڑوں اور فسادوں سے بھی بچتا ہے اور دنیا کو بھی بچاتا ہے۔چنانچہ اس بات کو بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام