خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 402
خطبات مسرور جلد 15 402 عه فرمودہ مورخہ 25 اگست 2017 سکھایا اور اپنے عمل سے دکھایا۔امانت میں خیانت نہ کرنا اس کی تو سخت تلقین اسلام کی تعلیم میں بھی ہے اور آپ نے ہمیں کر کے دکھائی۔جیسے بھی حالات ہوں عاجزی اور انکساری دکھانا، سچائی کے اعلیٰ ترین معیار قائم کرنا اور کون سا ایسا خُلق ہے جس کی معراج ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں نظر نہیں آتی۔اگر ہم حقیقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا نبی مانتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آپ کی غلامی میں بھیجا ہوا زمانے کا امام مانتے ہیں تو پھر اپنے عملوں کو بھی، اپنی عبادتوں کے معیاروں کو بھی ہمیں بلند کرنا ہو گا۔قرآن کریم کے احکامات کو دیکھ کر ، اس کے اوامر و نواہی کو دیکھ کر ہمیں جائزہ لینا ہو گا کہ کون کون سی نیک باتوں کو ہم کرنے والے ہیں اور کون سی ہم نہیں کر رہے۔کون سی برائیوں کو ہم چھوڑ رہے ہیں اور کن کو ہم نہیں چھوڑ رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقام اور دعوے کو صحیح رنگ میں پہچاننے کی ضرورت ہے۔ނ پس یہ زمانہ جو دنیا کو اللہ تعالیٰ سے دور لے گیا ہے اور ترقی کے نام پر ہر روز ہر آنے والا دن دور لے جانے کے لئے ایک نئی کوشش کرتا چلا جارہا ہے اس وقت میں یہ احمدی کا ہی کام ہے کہ اپنے تعلق باللہ اور اللہ تعالیٰ کی معرفت کو حاصل کرنے کی کوشش کریں اور ہر چڑھنے والا دن اس معرفت میں ترقی کرنے والا ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت صرف زبانی دعوی نہ ہو۔اس کے صرف نعرے نہ لگائے جائیں بلکہ اس عشق و محبت کا اظہار آپ کے اُسوہ حسنہ کو اپنا کر ہونا چاہئے۔یہ نہیں کہ نعرے تو آپ کے نام کے لگالئے اور اس کے بعد ظلم بھی آپ کے نام پر ہو رہا ہے۔آجکل مسلمانوں کی یہی حالت ہے۔اب دیکھتے ہیں بہت ساری تنظیمیں بنی ہوئی ہیں۔حکومتیں بھی اور تنظیمیں بھی اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ظلم کر رہی ہیں۔وہ رحمت للعالمین جو تمام زمانے کے لئے رحمت بن کر آیا تھا ان کو انہوں نے اپنے عملوں سے ظلم کا نشان بنا دیا ہے گو ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔اس لئے اس زمانے میں مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے تھے اور یہی ہم کوشش کرتے چلے جارہے ہیں کہ اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کریں۔پس ہمیں اس حقیقی تصویر کو پیش کرنے کے لئے آپ کے ہر اسوہ کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔قرآن کریم کی حکومت اپنے اوپر لاگو کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور ہر وقت اس کوشش میں رہنا چاہئے کہ ہمارا ہر عمل اعمال صالحہ میں شمار ہونے والا عمل ہو۔ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہم ہر لمحہ اور ہر روز بلکہ ہر لمحہ اس کوشش میں ہوں کہ ہم نے شیطان سے دور ہونا ہے اور رحمان کے قریب ہونا ہے۔ورنہ جیسا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہے غیر بھی نمازیں پڑھتے ہیں لیکن اکثر ان کی نمازیں زمین پر ہی رہ جاتی ہیں وہ عرش پر نہیں جاتیں۔عرش کے خدا کو ان نمازوں سے کوئی بھی غرض نہیں ہے کیونکہ ان میں اخلاص نہیں ہے۔ان میں دنیا کی ملونی ہے۔ایسی نمازیں ہیں جو ہلاکت ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ارشاد، یہ تنبیہ ہمیں سوچنے اور فکر کرنے