خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 401 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 401

خطبات مسرور جلد 15 401 عه فرمودہ مورخہ 25 اگست 2017 ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 235 تا 239) فرائض الہی ادا کرتے ہیں حالانکہ حقیقت کی روح ان میں نہیں ہوتی۔اس لیے یہ باتیں اور وساوس سحر کی طرح کام کرتے ہیں۔وہ ایسے وقت نہیں سوچتے کہ ہم حقیقی ایمان پیدا کرنا چاہتے ہیں جو انسان کو گناہ کی موت سے بچالیتا ہے اور ان رسوم و عادات کے پیر ولوگوں میں وہ بات نہیں۔ان کی نظر ظاہر پر ہے حقیقت پر نگاہ نہیں۔ان کے ہاتھ میں چھلکا ہے جس میں مغز نہیں۔" پس جب آپ کی بعثت کا مقصد اللہ تعالیٰ سے حقیقی تعلق پیدا کروانا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کی پہچان کروانا ہے۔قرآن کریم کی حکومت کو اپنے اوپر لاگو کروانا ہے تو ہم جو آپ کے ماننے والے ہیں ہمیں اس کے مطابق اپنی اعتقادی اور عملی حالتوں کی اصلاح بھی کرنی چاہئے۔اور صرف ظاہری طور پر یہ نہ دیکھ لیں۔اگر ہم بھی یہی سمجھتے ہیں کہ دوسرے مسلمان بھی ہماری طرح ہیں۔نمازیں روزہ رکھتے ہیں اور کوئی فرق نہیں۔اگر فرق نہیں نظر آتا تو ہمیں فکر کرنی چاہئے۔ہماری عبادتوں میں ، ہمارے درود میں ، ہمارے اذکار میں یہ فرق ہونا چاہئے۔ہماری خدمت خلق میں ایک دلی جذبہ اور روح ہونی چاہئے جبکہ دوسروں میں وہ نظر نہیں آتا۔پھر ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا ہماری بیعت یہ حقیقی رنگ لئے ہوئے ہے یا صرف زبانی با تیں ہی ہیں۔کیا ہماری عبادتیں اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک سمجھتے ہوئے اس کے لئے ہیں یا نہیں۔بہت سے ایسے ہیں جو پنج وقتہ نماز بھی ادا کرتے ہیں لیکن روح سے ادا نہیں کرتے۔بہت سے احمدیوں میں سے بھی ایسے ہیں کہ پانچ وقتہ نمازیں بھی ادا نہیں کرتے اور ملنے پر مجھے بھی کہہ دیتے ہیں کہ دعا کریں کہ ہم ادا کیا کریں۔حالانکہ یہ تو ایک بنیادی چیز ہے جو ہر احمدی کا فرض ہے۔ہر مومن کا فرض ہے ، ہر مسلمان کا فرض ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آنے کے بعد تو ایک دلی شوق سے اور ذوق سے نمازیں ادا ہونی چاہئیں، نہ یہ کہ نمازیں پوری نہ پڑھیں اور آکے کہہ دیا کہ دعا کریں کہ ہم نمازیں پڑھ لیں۔جب یہ احساس ہے کہ نمازیں نہیں پڑھتے تو پھر کوئی تدبیر بھی کرنی پڑے گی۔خود کوشش کرنی پڑے گی۔خود کوشش اور دعا کیوں نہیں کرتے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ جب کہتے ہیں تو صرف منہ سے کہنے کی بجائے ان الفاظ کو دل کی گہرائی سے دہراتے ہوئے اس پر عمل کیوں نہیں کرتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو سچا نبی مانا ہے تو پھر آپ کا ہر عمل ہمارے لئے اُسوہ حسنہ ہے۔عبادتوں کے ساتھ ساتھ آپ کے اعلیٰ اخلاق ہمارے لئے نمونہ ہیں۔معاشرتی تعلقات ہیں، گھر یلو تعلقات ہیں، بیویوں سے اعلیٰ اخلاق کا نمونہ آپ نے ہمارے لئے پیش فرمایا۔لیکن بہت سارے ایسے ہیں جو گھروں میں فساد پیدا کرتے ہیں ان کے جذبات کا خیال رکھنا آپ نے ہمیں سکھایا۔بچوں سے شفقت سے پیش آنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا۔دوسروں کے عمومی جذبات کا خیال رکھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا۔لڑائی جھگڑوں سے بچنا آپ نے اس کی تلقین بھی کی اور ہمیں