خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 14
خطبات مسرور جلد 15 14 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جنوری 2017 لندن تک حضور کے ہمراہ تھے بلکہ ربوہ سے کراچی تک جہاں تک میرا علم ہے کار ڈرائیو کرنے والے بھی یہی تھے۔ان کے دور امارت میں دارالذکر لاہور کو مزید وسعت حاصل ہوئی اور وہ تو اب تک جاری ہے لیکن بہر حال کافی کام ہوا۔دوران امارت لاہور میں بہت سی خوبصورت مساجد کا اضافہ ہوا۔ان کے دور میں جماعت احمدیہ لاہور کو احسن رنگ میں مالی قربانیوں کی توفیق حاصل ہوئی۔گزشتہ 32 سال سے یہ فضل عمر فاؤنڈیشن کے صدر کے طور پر بھی خدمات بجالا رہے تھے۔1984ء میں حضرت خلیفہ المسیح الرابع کی پاکستان سے انگلستان ہجرت کے وقت جیسا کہ میں نے کہا ان کو مصاحبت کی توفیق ملی اور Iain Adamson کی جو کتاب ہے اس میں اس نے ان کا ذکر بھی کیا ہوا ہے۔لاہور کے سیکرٹری امور عامہ چوہدری منور صاحب لکھتے ہیں کہ حمید نصر اللہ خان صاحب اپنے ساتھ کام کرنے والے کارکنان کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے۔ان کی چھوٹی سے چھوٹی ضروریات کا خیال رکھتے۔اگر ان سے کوئی مشورہ مانگا جاتا تو بڑی محبت اور پیار سے مشورہ دیتے۔کہتے ہیں میں نو (9) سال قائد ضلع لاہور رہا مگر کبھی کسی بات پر ناراضگی کا اظہار نہیں کیا۔خدام الاحمدیہ کے کاموں میں بہت زیادہ تعاون کرتے۔خدام الاحمدیہ کے پانچ اجتماعات لاہور سے باہر منعقد کروانے کا موقع ملا۔ان میں انہوں نے ہماری بڑی رہنمائی کی اور ایک ایک چیز کی رہنمائی کرتے تھے۔چوہدری حمید نصر اللہ خان صاحب بڑے اچھے منتظم بھی تھے اور کام کو وقت پر، موقع پر کرنے والے تھے۔تمام جماعتوں کا دورہ کرتے۔صدران حلقہ کے ساتھ ان کا ذاتی تعلق تھا۔عاملہ کے ممبران کو اپنا دوست اور دست و باز و سمجھتے تھے۔حکیم طارق صاحب کہتے ہیں کہ خلافت کی اطاعت آپ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔جماعتی کارکنان اور خادموں کے ساتھ انتہائی شفقت اور محبت سے پیش آتے۔بہت زیادہ اعتماد کرتے۔ان کو بہت زیادہ عزت دیتے۔اور پہلے میں ناظر اعلیٰ تھا تو میرے ساتھ بھی جتنا عرصہ انہوں نے بحیثیت امیر کام کیا، وہاں بھی مرکز کے ساتھ مکمل تعاون اور کامل اطاعت کے ساتھ کام کیا تھا۔بحیثیت ناظر اعلیٰ بھی انہوں نے میرے ساتھ کام کیا اور پھر خلافت کے بعد بھی جب تک یہ لاہور کے امیر رہے انتہائی تعاون سے کام کیا۔ان میں اطاعت کا جذبہ بڑا تھا۔کرنل نعیم صدیقی صاحب لاہور کے نائب امیر ضلع ہیں وہ لکھتے ہیں کہ خلافت کے ساتھ اپنے تعلق کے واقعات بیان کرنے شروع کرتے تھے تو پھر بیان کرتے چلے جاتے تھے۔ایک واقعہ کر نل نعیم صاحب نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ وہ بہاولپور میں کسی کام سے جا رہے تھے تو انہیں رستے میں بلکہ بہاولپور پہنچ گئے تھے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کا پیغام ملا کہ ربوہ پہنچیں تو اسی وقت وہاں اپنا کام چھوڑ کر فورار بوہ آگئے اور راتوں رات آکر نماز فجر سے پہلے پہنچ گئے اور کہتے ہیں میں نے باہر ٹہلنا شروع کر دیا اور جب انہوں نے دیکھا کہ اب تہجد کا وقت ہے اور تہجد یا نماز کے درمیان کا وقت ہے تو پھر انہوں نے یہ پیغام بھجوایا کہ میں آگیا ہوں اور حاضر ہوں۔