خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 400
خطبات مسرور جلد 15 400 خطبہ جمعہ فرموده مورخه 25 اگست 2017 اسی وقت اعمالِ صالحہ کہلاتے ہیں جب ان میں کسی قسم کا فساد نہ ہو۔صلاح کی ضد فساد ہے۔صالح وہ ہے جو فساد سے مبر امنزہ ہو۔جن کی نمازوں میں فساد ہے اور نفسانی اغراض چھپے ہوئے ہیں ان کی نماز میں اللہ تعالیٰ کے واسطے ہر گز نہیں ہیں اور وہ زمین سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتی ہیں کیونکہ ان میں اخلاص کی روح نہیں اور وہ روحانیت سے خالی ہیں۔بہت سے ایسے لوگ ہیں جو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس سلسلہ کی ضرورت کیا ہے "حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آکر جو نیا سلسلہ قائم کر دیا۔اس کی کیا ضرورت تھی؟ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ کہتے ہیں "کیا ہم نماز روزہ نہیں کرتے ہیں۔" آپ نے فرمایا کہ "وہ اس طرح پر دھو کہ دیتے ہیں اور کچھ تعجب نہیں کہ بعض لوگ جو نا واقف ہوتے ہیں ایسی باتوں کو سن کر دھوکا کھا جاویں اور ان کے ساتھ مل کر یہ کہہ دیں کہ جس حالت میں ہم نماز پڑھتے ہیں ، روزہ رکھتے ہیں اور وِرد وظائف کرتے ہیں پھر کیوں " ایک نئی جماعت پیدا کر کے " یہ پھوٹ ڈال دی۔" فرمایا " یاد رکھو کہ ایسی باتیں کم سمجھی اور معرفت کے نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔میرا اپنا کام نہیں ہے۔یہ پھوٹ اگر ڈال دی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ڈالی ہے۔"میں نے جماعت کو قائم نہیں کیا۔آپ نے فرمایا میں نے تو جماعت قائم نہیں کی۔یہ تو اللہ تعالیٰ نے مجھے کہا تھا کہ جماعت قائم کرو اور اس نے یہ جماعت بنائی ہے۔اگر تم کہتے ہو پھوٹ ڈال دی تو پھر اللہ تعالیٰ پہ الزام آتا ہے۔مجھ پہ الزام نہیں آتا۔فرمایا کہ " جس نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔" وہ اللہ تعالیٰ ہے۔اُس سے پوچھو کیوں یہ جماعت بنادی ہے۔فرماتے ہیں " کیونکہ ایمانی حالت کمزور ہوتے ہوتے یہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ ایمانی قوت بالکل ہی معدوم ہی ہو گئی ہے اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ حقیقی ایمان کی روح پھونکے جو اس سلسلہ کے ذریعہ سے اس نے چاہا ہے۔ایسی صورت میں ان لوگوں کا اعتراض بے جا اور بیہودہ ہے۔پس یا در کھو کہ ایسا وسوسہ ہر گز ہر گز کسی کے دل میں نہیں آنا چاہئے اور اگر پورے غور اور فکر سے کام لیا جاوے تو یہ وسوسہ آہی نہیں سکتا۔غور سے کام نہ لینے کے سبب ہی سے وسوسہ آتا ہے جو ظاہری حالت پر نظر کر کے کہہ دیتے ہیں کہ اور بھی مسلمان ہیں۔اس قسم کے وسوسوں سے انسان جلد ہلاک ہو جاتا ہے۔" فرماتے ہیں کہ "میں نے بعض خطوط اس قسم کے لوگوں کے دیکھے ہیں۔"حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بیعت کرنے کے بعد بھی بعض لوگوں کے خطوط آتے تھے "جو بظاہر ہمارے سلسلہ میں ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم سے جب یہ کہا گیا کہ دوسرے مسلمان بھی بظاہر نماز پڑھتے ہیں اور کلمہ پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں اور نیک معلوم ہوتے ہیں۔پھر اس نئے سلسلہ کی کیا حاجت ہے؟" آپ فرماتے ہیں کہ " یہ لوگ باوجودیکہ ہماری بیعت میں داخل ہیں ایسے وسوسے اور اعتراض سن کر لکھتے ہیں کہ ہم کو اس کا جواب نہیں آیا۔ایسے خطوط پڑھ کر مجھے ایسے لوگوں پر افسوس اور رحم آتا ہے کہ انہوں نے ہماری اصل غرض اور منشا کو نہیں سمجھا۔وہ صرف دیکھتے ہیں کہ رسمی طور پر یہ لوگ ہماری طرح شعائر اسلام بجالاتے ہیں اور