خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 399 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 399

خطبات مسرور جلد 15 399 خطبہ جمعہ فرموده مورخه 25 اگست 2017 بعد اب کسی کتاب یا شریعت کی ضرورت نہیں ہے۔دیکھو خوب یاد رکھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔یعنی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نئی شریعت اور نئی کتاب نہ آئے گی۔نئے احکام نہ آئیں گے۔یہی کتاب اور یہی احکام رہیں گے۔" فرماتے ہیں کہ "جو الفاظ میری کتابوں میں نبی یا رسول کے میری نسبت پائے جاتے ہیں اس میں ہر گز یہ منشا نہیں ہے کہ کوئی نئی شریعت یا نئے احکام سکھائے جاویں۔بلکہ منشا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی ضرورت حقہ کے وقت کسی کو مامور کرتا ہے تو ان معنوں سے کہ مکالمات الہیہ کا شرف اس کو دیتا ہے اور غیب کی خبریں اس کو دیتا ہے۔اُس پر نبی کا لفظ بولا جاتا ہے اور وہ مامور نبی کا خطاب پاتا ہے۔یہ معنے نہیں ہیں کہ نئی شریعت دیتا ہے یا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو نعوذ باللہ منسوخ کرتا ہے۔بلکہ یہ جو کچھ اسے ملتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی سچی اور کامل اتباع سے ملتا ہے اور بغیر اس کے مل سکتا ہی نہیں۔ہاں یہ ضروری ہے کہ جب زمانہ میں گناہ کثرت سے ہوتے ہیں اور اہل دنیا ایمان کی حقیقت نہیں سمجھتے اور ان کے پاس پوست یا ہڈی رہ جاتی ہے اور مغز اور کب نہیں رہتا۔ایمانی قوت کمزور ہو جاتی ہے اور شیطانی تسلط اور غلبہ بڑھ جاتا ہے۔ایمانی ذوق اور حلاوت نہیں رہتی۔ایسے وقتوں میں عادت اللہ اس طرح پر جاری ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ایک کامل بندہ کو جو خدا تعالیٰ کی سچی اطاعت میں فنا شدہ اور محو ہو تا ہے اپنے مکالمہ کا شرف بخش کر بھیجتا ہے اور اب اس وقت اُس نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے۔" آپ فرماتے ہیں کہ اس وقت اس نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے " کیونکہ یہی وہ زمانہ ہے جس میں الہی محبت بالکل ٹھنڈی ہو گئی ہے۔اگر چہ عام نظر میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ لا الهَ إِلَّا اللہ کے بھی قائل ہیں۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی زبان سے تصدیق کرتے ہیں۔بظاہر نمازیں بھی پڑھتے ہیں۔روزے بھی رکھتے ہیں۔مگر اصل بات یہ ہے کہ روحانیت بالکل نہیں رہی۔اور دوسری طرف ان اعمال صالحہ کے مخالف کام کر نا ہی شہادت دیتا ہے کہ وہ اعمال اعمالِ صالحہ کے رنگ میں نہیں کئے جاتے۔" جو اعمال کئے جارہے ہیں وہ اعمال صالحہ کے مخالف ہیں۔مسلمانوں کی اکثر کی یہی حالت نظر آ رہی ہے۔فرمایا " بلکہ رسم اور عادت کے طور پر کئے جاتے ہیں۔" بعض کام اگر کئے بھی جاتے ہیں تو رسمی طور پر کئے جاتے ہیں۔یہ عادت پڑ گئی ہے اس وجہ سے کئے جاتے ہیں۔ان کو اس کی روح اور اس کی حقیقت کا علم نہیں ہے "کیونکہ ان میں اخلاص اور روحانیت کا شمہ بھی نہیں ہے۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ ان اعمال صالحہ کے برکات اور انوار ساتھ نہیں ہیں۔" اعمال صالحہ کی حقیقت کو جانتے ہوئے اگر اعمال بجالائے جائیں، خدا کو راضی کرنے کے لئے بجالائے جائیں تو اس کے ساتھ کچھ نتیجے بھی ہونے چاہئیں۔اس کی برکات ہونی چاہئیں۔فرماتے ہیں "خوب یادر کھو کہ جب تک سچے دل سے اور روحانیت کے ساتھ یہ اعمال نہ ہوں کچھ فائدہ نہ ہو گا اور یہ اعمال کام نہ آئیں گے۔اعمالِ صالحہ