خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 396 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 396

خطبات مسرور جلد 15 396 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اگست 2017 وہ شیطان ہے۔" اللہ تعالیٰ کے اتنے بڑے احسان ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی بات نہیں مانتا اس کی پوری اطاعت نہیں کرتا۔فرمایا پھر وہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرنے والا نہیں۔رحمان کا بندہ نہیں ہو سکتا وہ تو پھر شیطان ہو گا۔فرماتے ہیں که "دوسرا حصہ یہ ہے کہ مخلوق کے حقوق شناخت کرے اور کما حقہ اس کو بجالاوے۔" فرمایا کہ "جن قوموں نے موٹے موٹے گناہ جیسے زنا، چوری، غیبت، جھوٹ وغیرہ اختیار کئے آخر وہ ہلاک ہو گئیں اور بعض قومیں صرف ایک ایک گناہ کے ارتکاب سے ہلاک ہوتی رہیں۔مگر چونکہ یہ اُمتِ مرحومہ ہے "مسلمان جو ہیں ان پر اللہ تعالیٰ کی خاص نظر ہے " اس لیے خدا تعالیٰ اسے ہلاک نہیں کرتا۔ورنہ کوئی معصیت ایسی نہیں ہے جو یہ نہیں کرتے۔۔۔کون سا گناہ ہے جو مسلمانوں میں آجکل نہیں ہے۔آپ نے فرمایا کہ یہ سب کام کر رہے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ "ہر ایک نے الگ معبود بنالئے ہیں۔ایک معبود نہیں۔دنیا میں پڑگئے ہیں اور دنیا کو اپنا معبود بنالیا ہے۔دنیا داروں کو اپنا معبود بنالیا ہے۔فرماتے ہیں کہ " بات یہ ہے کہ عقیدے اچھے ہوتے ہیں تو انسان سے اعمال بھی اچھے صادر ہوتے ہیں۔اگر عقیدہ بہتر ہو گا، اچھا ہو گا اس پر یقین ہو گا تو پھر اس عقیدے کی رُو سے اگر نیک نیتی اگر ہو گی تو پھر اچھے اعمال بھی صادر ہوں گے۔فرماتے ہیں "جو انسان سچا اور بے نقص عقیدہ اختیار کرتا ہے اور خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا تو اس سے اعمال خود بخود ہی اچھے صادر ہوتے ہیں اور یہی باعث ہے کہ جب مسلمانوں نے سچے عقائد چھوڑ دیئے تو آخر دجال وغیرہ کو خدا ماننے لگ گئے۔" ابھی دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بڑی بڑی حکومتیں بھی دنیاوی طاقتوں کو خدا ماننے لگ گئی ہیں۔ان کی جھولی میں گرنے لگ گئی ہیں۔اور یہ آجکل ہمیں ہر جگہ نظر آتا ہے۔پس افراد سے لے کر حکومتوں تک، مسلمان حکومتوں تک کا یہی حال ہے "کیونکہ دجال میں تمام صفات خدائی کے تسلیم کرتے ہیں۔پس جب اس میں تمام صفات خدائی کے مانتے ہو تو جو اُسے خدا کہے اُس کا اِس میں کیا قصور ہوا؟" فرمایا "خود ہی تو تم خدائی کا چارج دجال کو دیتے ہو۔پروردگار چاہتا ہے کہ جیسے عقائد درست ہوں ویسے ہی اعمال صالحہ بھی درست ہوں اور ان میں کسی قسم کا فساد نہ رہے۔اس لئے صراط مستقیم پر ہونا ضروری ہے۔" آپ فرماتے ہیں کہ "خدا نے بار بار مجھے کہا ہے کہ الْخَيْرُ كُلَّهُ فِی الْقُزان " فرماتے ہیں کہ "اس کی تعلیم ہے خد ا واحد لا شریک ہے۔جو قرآن نے کہا ہے وہ بالکل سچ ہے۔" سب بھلائیاں قرآن کریم میں تلاش کرو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔اس کا حق بجالاؤ اور جو بندوں کے حق ہیں ان کو بھی ادا کرو۔( ملفوظات جلد 6 صفحہ 420-421) پس خدا تعالیٰ کو وحدہ لاشریک سمجھنا اور اس کی پوری اطاعت کرنا اور اس کا حق ادا کرنا، یہ پھر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کی عبادت کا بھی حق ادا کیا جائے۔چنانچہ اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ اس سلسلہ کے قیام کا مقصد ہی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو۔ہم کیوں احمدی ہوئے ہیں ؟ کیا مقصد تھا آپ کی بیعت میں