خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 395
خطبات مسرور جلد 15 395 34 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 اگست 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بر موقع جلسہ سالانہ جرمنی فرمودہ مورخہ 25 اگست 2017ء بمطابق 25 ظہور 1396 ہجری شمسی بمقام DM Arena کالسروئے (Karlsruhe)، جرمنی تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم آج یہاں جلسہ میں شمولیت کے لئے جمع ہیں۔جیسا کہ ہر احمدی جانتا ہے کہ ہمارا یہاں جلسہ کے لئے اکٹھا ہونا کسی دنیاوی ہاؤ ہو ، شور شرابے یا کسی دنیاوی مقصد کے لئے نہیں ہے بلکہ اس لئے ہے کہ یہاں کے پروگراموں میں شامل ہو کر ایک روحانی ماحول میں رہ کر اپنی روحانیت کو بڑھائیں۔اپنی علمی استعدادوں کو بڑھائیں۔اپنی اعتقادی حالت کو بہتر کریں۔اپنی عملی حالتوں میں بہتری کریں۔اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کریں اور اللہ تعالیٰ کے حق اور اس کے بندوں کے حق ادا کریں۔کوئی غیر احمدی تو شاید یہ کہہ سکتا ہے کہ ہمیں اس بات کا ادراک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حق کیا ہیں اور اس کے بندوں کے حق کیا ہیں۔لیکن ایک احمدی یہ نہیں کہہ سکتا۔اس کے سامنے تو بار بار یہ باتیں بیان کی جاتی ہیں۔ہم پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ آپ نے ہمیں ان باتوں کا اتنا بڑا ذخیرہ دے دیا ہے کہ جو نہ ختم ہونے والا ہے۔بعض دفعہ انسان سمجھتا ہے کہ ایک بات میں نے پہلے سنی ہوئی ہے، پڑھی ہوئی ہے لیکن جب وہ اسے دوبارہ سنتا ہے یا پڑھتا ہے تو کوئی نہ کوئی نیا نکتہ یا نیا پہلو اس بات کا اس کے سامنے آجاتا ہے۔اور پھر ایک احمدی جو بیعت میں شامل ہوتا ہے اس کے لئے شرائط بیعت میں آپ علیہ السلام نے ان حقوق اور ہمارے فرائض کو مختصر آبیان فرمایا ہے۔پس اپنے اس مقصد کو ہمیں ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے کہ اس جلسہ میں شامل ہونے کا ہمارا کیا مقصد ہے۔اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض حوالے پیش کروں گا۔الصلوة اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ عقائد کا اثر اعمال پر بھی ہوتا ہے، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ ا والسلام فرماتے ہیں کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ایک تو یہ کہ خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جاوے اور اس کے احسانوں کے بدلے میں اس کی پوری اطاعت کی جاوے۔ورنہ خدا تعالیٰ جیسے محسن و مربی سے جو رو گردانی کرتا ہے