خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 397
خطبات مسرور جلد 15 397 خطبه جمعه فرموده مورخه 25 اگست 2017 آنے کا؟ کیوں آپ نے سلسلہ قائم کیا؟ فرمایا تا کہ خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو اور دعا اور عبادت کی حقیقت کا علم ہو۔آپ فرماتے ہیں کہ " جیسے پہلا آدمی جو صرف دعا کرتا ہے اور تدبیر نہیں کرتا وہ خطا کار ہے۔اسی طرح پر یہ دوسرا جو تدبیر ہی کو کافی سمجھتا ہے وہ ملحد ہے۔ایک شخص دعا کرتا ہے کوشش نہیں کرتا۔تدبیر نہیں کرتا۔تدبیر کرنے کا بھی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، تو وہ بھی خطا کار ہے۔غلطی پر ہے۔اسی طرح پر جو تدبیر کرتا ہے اور دعا نہیں کرتاوہ ملحد ہے۔انگر تدبیر اور دعا دو نو باہم ملا دینا اسلام ہے۔" اسلام کی تعلیم کیا ہے کہ تدبیر بھی کرو۔کوشش کرو۔اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ ، اپنی پوری استعدادوں کے ساتھ ، اپنی پوری طاقتوں کے ساتھ جو تم دنیاوی کوشش کر سکتے ہو کر و۔اور اسی طرح دعا بھی کرو۔اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑاؤ اور بہت دعا کرو کہ اصل نتیجہ اس تدبیر کا خدا تعالیٰ نے پیدا کرنا ہے اور اگر یہ چیزیں ہیں تو آپ نے فرمایا پھر یہ اسلام ہے۔فرماتے ہیں کہ " اسی واسطے میں نے کہا ہے کہ گناہ اور غفلت سے بچنے کے لئے اس قدر تدبیر کرے جو تدبیر کا حق ہے۔اور اس قدر دعا کرے جو دعا کا حق ہے۔اسی واسطے قرآن شریف کی پہلی ہی سورۃ فاتحہ میں ان دونوں باتوں کو مد نظر رکھ کر فرمایا ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ - إِيَّاكَ نَعْبُدُ اسی اصل تدبیر کو بتاتا ہے اور مقدم اس کو کیا ہے کہ پہلے انسان رعایت اسباب اور تدبیر کا حق ادا کرے۔مگر اس کے ساتھ ہی دعا کے پہلو کو چھوڑ نہ دے بلکہ تدبیر کے ساتھ ہی اس کو مد نظر رکھے۔" فرمایا کہ "مومن جب اِيَّاكَ نَعْبُدُ کہتا ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں تو معاً اس کے دل میں خیال گزرتا ہے کہ میں کیا چیز ہوں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں جب تک اُس کا فضل اور کرم نہ ہو۔" بعض لوگوں کو بڑا مان ہوتا ہے۔بڑا زعم ہوتا ہے کہ ہم بڑے عبادت گزار ہیں۔بڑے نمازیں پڑھنے والے ہیں۔لیکن یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ایک حقیقی مومن تو یہ سوچتا ہے کہ عبادت کی توفیق دینا بھی اللہ تعالیٰ کا ہی فضل ہے۔فرمایا کہ " اس لئے وہ معا کہتا ہے۔اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔مدد بھی تجھ ہی سے چاہتے ہیں۔یہ اک نازک مسئلہ ہے جس کو بجز اسلام کے اور کسی مذہب نے نہیں سمجھا۔اسلام ہی نے اس کو سمجھا ہے۔۔۔۔" آپ فرماتے ہیں " پس اسلام کے لئے یہ ضروری امر ہے کہ اس میں داخل ہونے والا اس اصل کو مضبوط پکڑ لے۔تذبیر بھی کرے اور مشکلات کے لئے دعا بھی کرے اور کر اوے۔اگر ان دونوں پلڑوں میں سے کوئی ایک ہلکا ہے تو کام نہیں چلتا ہے۔اس لئے ہر ایک مومن کے واسطے ضروری ہے کہ اس پر عمل کرے۔" فرماتے ہیں کہ "مگر اس زمانہ میں میں دیکھتا ہوں کہ لوگوں کی یہ حالت ہو رہی ہے کہ وہ تدبیریں تو کرتے ہیں مگر دعا سے غفلت کی جاتی ہے۔بلکہ اسباب پرستی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ تدابیر دنیا ہی کو خدا بنا لیا گیا ہے اور دعا پر ہنسی کی جاتی ہے اور اس کو ایک فضول شئے قرار دیا جاتا ہے۔یہ سارا اثر یورپ کی تقلید سے ہوا ہے۔یہ خطرناک زہر ہے جو دنیا میں پھیل رہا ہے۔" اب یہاں یورپ میں اللہ تعالیٰ پہ ایمان تو بہت حد تک کم ہو رہا ہے۔